ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 238

والے کہیں گے کہ تمہاری شکلیں کیسے بدل گئیں ؟ وہ کہیں گے ہم حقدار تھے کہ ہماری شکلیں بدل کر خوبصورت ہو جاتیں کیونکہ ہم نے خدا کو دیکھا ہے۔تو جن کو رویت الہی حاصل ہوتی ہے ان کی روحیں بدلتی جاتیں ہیں۔اسی دنیا میں دیکھ لو جن کو خدا کی رؤیت ہوتی ہے ان کی روحیں کیسی اعلیٰ اور اور ہی طرح کی ہو جاتی ہیں اور نہ صرف ان کی روحیں اعلیٰ ہو جاتی ہیں بلکہ ان کے جسم پر بھی نور برستا اور ان کی نیکی ظاہر ہوتی ہے۔خدا کا شکل اختیار کرنا شاید بعض کے دل میں خیال پیدا ہو کہ رؤیت الہی کی صورت یہ بتائی گئی ہے کہ خدا کی صفات متمثل ہو کر نظر آتی ہیں پس اصل چیز تو نہ دیکھی گئی پھر دیدار کے کیا معنے ہوئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کی رؤیت بھی وہمی رؤیت نہیں ہوتی بلکہ حقیقی رؤیت ہوتی ہے اس لئے کہ غیر محدود ذات کی رؤیت اسی طرح ہو سکتی ہے۔اصل غرض تو نتائج سے ہے اور رویت کے جو نتائج ہوا کرتے ہیں وہ اسی قسم کی رؤیت سے پورے ہو جاتے ہیں۔اس کی مثال سورج کی سی ہے جسے آج تک کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔شاید بعض لوگ حیران ہوں گے کہ یہ کیا بات ہے؟ مگر حقیقت یہی ہے کہ اصل سورج کو کسی نے نہیں دیکھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح اور چیزوں کی رفتار پر وقت لگتا ہے اسی طرح روشنی کی رفتار پر بھی وقت لگتا ہے جس کا اندازہ فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا ہے۔چونکہ سورج دنیا سے نو کروڑ میل کے فاصلہ پر ہے اس لئے