ہستی باری تعالیٰ — Page 237
۲۳۷ اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صبح اور عصر کی نمازوں کی خوب پابندی کرو۔اس کے یہ معنی نہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نمازوں کا خاص حکم دیا ہے اس لئے باقی چھوڑی بھی جاسکتی ہیں۔ان نمازوں کے متعلق تاکید کرنے سے صرف یہ مراد ہے کہ چونکہ ان دونوں اوقات میں انسان کے پچھلے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لئے ان اوقات کی نماز کو باجماعت ادا کرنے کے لئے خاص تعہد کرنا چاہئے ورنہ یہ مراد نہیں کہ دوسری نمازوں کی اہمیت کم ہے۔رؤیت الہی کا پہلا فائدہ کہ وہ خوبصورتی پیدا کرتی ہے ہر رؤیت انسان کے اندر تغیر پیدا کرتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وُجُوةٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلى رَيْهَا نَاظِرَةٌ - (القيامة : ۲۳، ۲۴) کہ اس دن خدا کے حضور میں حاضر ہونے والوں کے منہ بڑے خوبصورت ہوں گے کیوں؟ اس لئے کہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔جب خدا کی تجلی سامنے ہوتی ہے تو اس کی بابرکت شعاعوں سے مؤمن بھی خوبصورت ہو جاتا ہے اور جب تجلی ہوتی ہے تو اس کا رُوح پر اثر پڑتا ہے اور روح یکدم ترقی کر کے اوپر کے درجہ پر پہنچ جاتی ہے۔ہماری آج جو روح ہے آخرت میں یہ جسم ہوگی اور عالم برزخ میں نئی روح تیار ہوگی پھر وہ روح بھی ترقی مدارج کے ساتھ نئی روحانی پیدائش حاصل کرتی چلی جائے گی۔غرض خدا تعالیٰ نے یہ طریق رکھا ہے کہ رؤیت کے نتیجہ میں خوبصورتی حاصل ہوتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جب خدا کی لوگوں پر تجلی ہوگی اور وہ واپس گھر جائیں گے تو گھر