ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 236

۲۳۶ ان سے بڑھ کر ترقی یافتہ ہوں گے انہیں صبح بھی دیدار ہوگا اور شام کو بھی اور اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اگر صبح انہیں ایک روحانی درجہ حاصل تھا تو شام کو اور درجہ حاصل ہو گا اور اگلی صبح اور درجہ حاصل ہوگا۔ممکن ہے کہ اس سے بڑے مدارج کے لوگ بھی ہوں جن کو اس سے بھی کم عرصہ روحانی ترقی کے حصول میں لگے لیکن حدیث سے اسی قدر معلوم ہوتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مدارج کے لحاظ سے مختلف رؤیتیں حاصل ہوتی ہیں اور جتنی روحانی طاقت زیادہ انسان یہاں پیدا کرے گا اتنی ہی جلدی وہاں رؤیت میں ترقی ہوگی اور کم از کم ایک ہفتہ کے اندر اس کی گویا نئی پیدائش ہوگی۔اس کی روح اتنی ترقی کرے گی کہ نئی بن جائے گی اور اعلیٰ درجہ کے مؤمن تو بارہ بارہ گھنٹے میں ترقی کریں گے۔دیکھو خدا تعالیٰ کے انبیاء کیسے لطیف اشارات سے استدلال کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مؤمن کو صبح بھی تجلی ہوگی اور شام کو بھی۔اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کسقدر وسیع تھا اور آپ کی نظر کہاں سے کہاں پہنچتی تھی۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ اگر تم خدا کی رؤیت چاہتے ہو تو صبح اور عصر کی نماز کی خوب پابندی کرو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استدلال کیا ہے کہ ان نمازوں کی وجہ سے ہی تجلی ہوگی کیونکہ خدا فعل پر نتیجہ مرتب کرتا ہے صبح کی نماز کے فعل پر صبح کی رؤیت اور عصر کی نماز کے فعل پر پچھلے پہر کی رؤیت ہو گی۔بخاری کتاب التوحید باب قول الله تعالى وُجُوهٌ يَوْمَينٍ نَّاهِرَةُ إلى ريْهَا نَاظِرَةٌ