ہستی باری تعالیٰ — Page 224
۲۲۴ ہو سکتی وہ مندرجہ ذیل آیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرُ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَخَرٌ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (الاعراف: ۱۴۴) وہ کہتے ہیں دیکھو قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت موسی خدا کے پاس گئے اور جا کر کہا اے خدا مجھے اپنا وجود دکھا اللہ نے کہا تو ہر گز نہیں دیکھے گا اور کہا کہ پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ ٹھہرا رہا تو تم بھی دیکھ لو گے لیکن جب پہاڑ پر بجلی گری اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو حضرت موسی بیہوش ہو گئے اور جب انہیں افاقہ ہوا تو کہا اے اللہ تو پاک ہے میں تو بہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا مؤمن بنتا ہوں۔اس سے معلوم ہوا کہ رویت الہی ناممکن ہے کیونکہ حضرت موسی نے اس کی خواہش کی مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی اور وہ بیہوش ہو گئے۔پہلا جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ رؤیت الہی نہیں ہوسکتی درست نہیں کیونکہ جواب میں یہ نہیں کہا گیا کہ تو اس دُنیا میں نہیں دیکھ سکے گا بلکہ کہا گیا ہے کہ لن تراني تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گا اب اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ رؤیت الہی ناممکن ہے تو پھر اگلے جہان میں بھی وہ ناممکن ہوگی اس لئے جولوگ اگلے جہان میں رؤیت کے قائل ہیں انہیں بھی اس آیت کی کوئی تو جیہ کرنی پڑے گی۔دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت موسی جو خدا تعالیٰ کے نبی تھے کیا وہ یہ نہ سمجھ سکتے تھے کہ رؤیت الہی ممکن ہے یا نہیں اگر کوئی اور معمولی بات ہوتی تو اور بات تھی مگر یہ تو ایسا مسئلہ تھا کہ جس دن حضرت موسیٰ نے نبوت کا دعویٰ کیا اسی دن پتہ لگ جانا چاہئے تھا مگر معلوم ہوتا