ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 218

۲۱۸ دوسرا چکر ان کا یہ ہے کہ انسان اپنے عمل سے جب ان کے اثر کو کھینچے تو ان کا اثر ظاہر ہوتا ہے ورنہ نہیں۔آگے ان صفات کا کھینچنا دوطرح ہوتا ہے۔ایک قانونِ قدرت کی مدد سے اور دوسرے بذریعہ دُعا۔مثال پہلی بات کی یعنی صفات الہیہ کے بر وقت ظاہر ہونے کی یہ ہے کہ رزق خدا تعالیٰ ایک رنگ میں ہر وقت دے رہا ہے۔انسان کے جسم کے ہر ایک ذرے کو اگر خون نہ ملے تو انسان مر جائے۔اسی طرح ہوا انسان کے اندر جا رہی ہے جس سے خون صاف ہوتا ہے۔ہر وقت خدا تعالیٰ کی صفات یہ ضرورت پوری کر رہی ہیں خواہ انسان سوتا ہو یا جاگتا، ہوش میں ہو یا بے ہوشی میں۔اسی طرح ستر ہے ہر وقت ستر ہو رہا ہے۔خدا تعالیٰ نے قانون رکھا ہے کہ انسان کے دماغ کا حال دوسرے کو معلوم نہ ہو۔انسانی دماغ میں بیسیوں گندے خیال گزرتے ہیں اگر یہ صفت نہ ہوتی تو لوگ آپس میں ہر وقت لڑتے جھگڑتے رہتے۔کوئی کسی کو ملنے کے لئے جاتا مصافحہ کرتا اور اسے مارنے لگ جاتا کہ تمہارے دل میں میرے متعلق فلاں برا خیال آیا تھا۔اسی طرح میاں بیوی کے دل میں ایک دوسرے کے متعلق کبھی کوئی برا خیال آتا تو وہ ایک دوسرے کو معلوم ہو جا تا اور ان کی محبت میں فرق آ جا تا۔تو خدا تعالیٰ کی ستاری کی صفت بھی ہر وقت اپنا عمل کر رہی ہے۔اسی طرح خدا تعالی کی غفاری کی صفت ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا میں برا بر گناہ ہو رہے ہیں کہیں جسمانی اور کہیں شرعی جس طرح کھانے میں کبھی بے احتیاطی ہو جاتی ہے اسی طرح انسانی جسم کے ذرات بھی غلطیاں کر جاتے ہیں بیماریوں کے کیڑے جسم میں داخل ہوتے رہتے ہیں مگر ان بے اعتدالیوں میں سے اکثر کے اثر کو خدا تعالیٰ کی صفت رحمت آپ ہی آپ مٹاتی رہتی ہے۔صحت پیدا کرنے والے اجزاء فورا بیماری