ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 214

۲۱۴ دیکھ لو کتنے وسیع مضمون اس میں بیان کئے گئے ہیں۔خدا کی صفات کس طرح جاری ہوتی ہیں؟ اب یہ بات رہ گئی کہ خدا کی صفات کس طرح جاری ہوتی ہیں۔اس کے متعلق پر تو یہ یادرکھنا چاہئے کہ بندوں سے خدا تعالیٰ کی جو صفات تعلق رکھتی ہیں ان میں خدا نے رحمت کا وسیع دائرہ کھینچا ہے چنانچہ فرماتا ہے رخمینی وسعت كُل تمنی ، میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تو اس صفت کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ سب کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ سب صفات کے ظہور پر غالب ہوتی ہے حتی کہ خدا تعالیٰ کے علم پر بھی رحمت ہی غالب ہے۔شاید اس بات پر تعجب ہو کہ خدا تعالیٰ کے علم پر رحمت کس طرح غالب ہے۔مگر اس کا پستہ اس سے لگتا ہے کہ مبشرات خدا تعالیٰ کی طرف سے زیادہ آتے ہیں اور منذرات کم حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر مندر رویا زیادہ آئیں تو شیطانی ہوتی ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مندر رویا نہیں آتیں کیونکہ ایسی خواہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آتی تھیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جسے ڈراؤنی خوا میں ہی آتی رہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس شخص کو متواتر سلسلہ الہامات کا جاری ہو اس میں مبشرات کا پہلو غالب ہوتا ہے کیونکہ متواتر الہام خدا کے پیاروں کو ہی ہو سکتے ہیں اور جو پیارے ہوں وہ عذاب کی نسبت انعام کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ کا علم جو بندوں سے تعلق رکھتا ہے اس پر بھی اس کی رحمت وسیع ہوتی ہے اور دنیاوی علوم کے انکشاف میں بھی صفت رحمت ہی وسیع ہے کیونکہ جو علوم دریافت ہوتے ہیں ان میں رحمت کا پہلو غضب کے پہلو پر غالب ہوتا ہے۔