ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 213

گناہوں اور بدکاریوں میں بکثرت مبتلاء ہو جاتے ہیں تو ان صفات کو چھوڑ دیتا ہے تا کہ لوگ تباہ و برباد ہوں۔اب دیکھو کتنی وسیع اور پر حکمت تعلیم اس میں بیان کی گئی ہے کہ جب نو ر جاری ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ عذاب کی صفتوں کو روک دیتا ہے اور جب بدی پھیل جاتی ہے تو ان کو کہہ دیتا ہے کہ اب تمہارا دور جاری ہو جائے۔الهام مسیح موعود کے ایک اور معنے پھر خدا کی صفت خلق قائم مقام نور ہے اور عدم قائم مقام ظلمت۔چنانچہ عربی میں خلق کو فلق بھی کہتے ہیں اور فلق کے معنے پو پھٹنے کے ہیں۔گو یا مخلوق بھی نور ہوتی ہے اور عدم کیا ہوتا ہے؟ کچھ نہ ہونا۔اب ہونا تو روشنی ہوئی اور نہ ہونا اندھیرا۔اس لئے اُفطِرُو اصُوْمُ کے یہ معنی ہوئے کہ خدا کی بعض صفات ایسی ہیں جو عدم کے وقت جاری ہوتی ہیں اور بعض وجود کے وقت جیسے کہتے ہیں اب مادہ کو خدا کیوں نہیں پیدا کرتا اسی لئے کہ جب عدم تھا تو خدا تعالیٰ کی مادہ کو پیدا کرنے کی صفت جاری ہوگئی اور جب وجود میں آگیا تو اب مخلوق کے قائم رکھنے کی صفات جاری ہو گئیں۔تو یہ کتنا بڑا اعلم ہے جو حضرت مسیح موعود کے اس الہام سے ظاہر ہوا۔اب دشمن اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیا خدا بھی کھانا کھاتا ہے کہ اس نے چھوڑ دیا۔ہم کہتے ہیں معترض نادان ہیں جو خدا کے کلام کے معارف نہیں جانتے۔خدا تعالیٰ نے ایسا علم حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دیا ہے اور آپ نے وہ غوامض بیان فرمائے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیرہ سو سال میں کسی نے نہیں بیان کئے۔یہ ایک ہی الہام