ہستی باری تعالیٰ — Page 203
کیا بلکہ وہ اس دُنیا کی سب چیزوں کو اسی طرح پیدا کرتا ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ ہر چیز اپنی ارد گرد کی چیزوں سے مناسبت حاصل کر سکے تاکہ تمام چیزیں اس سے مل کر کام کر سکیں۔پس چیزوں کا آپس میں لگاؤ اور انس پیدا کرنے کے لئے اس نے ایسا کیا ہے۔خدا تعالی تو قادر تھا کہ فورا کوئی چیز پیدا کر دیتا مگر ہمیں ضرورت تھی کہ آہستہ آہستہ پیدائش ہو تا کہ ہم ایک دوسرے کو جذب کر سکیں۔جس طرح اگر اسپنج کو جلدی پانی میں سے نکال لیا جائے تو وہ اچھی طرح گیلا بھی نہیں ہوتا پانی جذب کرنے کے لئے کچھ دیر پانی میں رکھے رہنے کا محتاج ہے یا جیسے ماش کی دال بھیگنے کے لئے دیر تک پانی میں رہنے کی محتاج ہے پس یہ ویر خدا تعالیٰ کے ضعف کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے ضعف کے سبب سے ہے۔تیسرا جواب تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر اس کی قدرت فورا پیدا کر دینے کا تقاضا کرتی ہے تو چاہئے تھا کہ ہر ایک چیز ہی فوڑا پیدا ہو جاتی مگر ذرا دنیا میں اس قانون کو جاری کر کے دیکھ لو دُنیا کیا بن جاتی ہے۔اس قانون کے ماتحت بچہ کو نو ماہ کے بعد پیدا نہ ہونا چاہئے بلکہ فورا پیدا ہو جانا چاہئے۔سوچو تو سہی اس کا کیا نتیجہ نکلے گا سردی کا موسم ہو آدھی رات کا وقت ہو ایک غریب آدمی کی بے خبری میں یکدم بچہ پیدا ہو جائے اس وقت وہ کہاں سے اس کے لئے کپڑا مہیا کر سکے گا پھر اگر مضبوط آدمی ہوا اور اس نے پھر ایسا ہی فعل کیا جس سے بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس وقت ایک اور بچہ پیدا ہو جائے گا اور اگر تیسری دفعہ پھر وہی فعل اس سے ہوا تو تیسرا بچہ پیدا ہو جائے گا اس طرح ایک ایک رات میں بعض لوگوں کے کئی کئی بچے پیدا ہونے ممکن ہوں گے اور صبح ہوتے ہوتے ایک بڑے کنبے کی پرورش کا بوجھ سر پر