ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 198

۱۹۸ قصور کچھ نہیں ہوتا لیکن وہ اتفاقاً اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں خدا تعالیٰ کی قہری تجلی نازل ہو رہی ہے تو یہ بھی اس میں مبتلاء ہو جاتا ہے جیسے مثلاً کوئی شخص راستہ پر جارہا تھا پہلو کے مکان کی دیوار گری اور وہ نیچے آکر مر گیا۔ان تینوں قسم کی تکلیفوں کو الگ الگ معلوم کرنا انسان کے لئے عام طور پر مشکل ہے اس لئے ایک خشیت اللہ رکھنے والے دل کا پہلا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کو اپنے اعمال کا نتیجہ سمجھے اور آئندہ نتائج سے خائف ہو۔پس ایک یہ باعث بھی مصائب پر افسوس کرنے کا ہے۔دوسرے یہ امر بھی قابل غور ہے کہ تکلیف کا احساس ایک علیحدہ بات ہے اور اس کو حکمت کے ماتحت سمجھنا علیحدہ بات ہے۔دیکھو جب ڈاکٹر کسی کی بیمار آنکھ میں دوائی ڈالتا ہے تو یہ اچھی بات ہوتی ہے یا بری؟ اس بات کو کوئی بری نہیں کہہ سکتا لیکن دوائی لگاتے وقت بیمار درد کی وجہ سے شور مچایا کرتا ہے یا ہنس ہنس کر یہ کہا کرتا ہے کہ آہا ہا اس کا نتیجہ بہت اچھا ہوگا۔انسانی تکلیف کے متعلق یہ اعتراض تو تب صحیح مانا جائے کہ اگر وہ تکلیف دہ امور جن کا نتیجہ یقیناً دہریوں کے نزدیک بھی اچھا ہوتا ہے ان پر وہ خوش ہوا کریں مثلاً جب ڈاکٹر کسی کا موتیا کاٹ کر نکالے تو وہ خوشی سے ہنستا جائے کہ اس کا نتیجہ بہت اچھا ہوگا تو نتیجہ پر خوش ہونا اور بات ہوتی ہے اور درمیانی تکلیف پر افسوس کرنا اور۔ہم درمیانی تکلیف پر افسوس کرتے ہیں نہ کہ نتیجہ پر۔حیوانات کو کیوں تکلیف دی جاتی ہے؟ اب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ خدا جانوروں کو کیوں تکلیف دیتا ہے؟ چھپکلیاں بھنگے۔وغیرہ کھا جاتی ہیں۔بکری کو شیر کھا لیتا ہے۔ان جانوروں کو تکلیف دینے کی کیا وجہ ہے؟ اور