ہستی باری تعالیٰ — Page 197
۱۹۷ یہ سب امور حکمت پر مبنی ہیں اور ان کے بغیر دنیا کا گزارہ نہیں ہوسکتا تھا تو پھر جب کسی گھر میں ماتم ہو جاتا ہے تو گھر والے خوشی کیوں نہیں مناتے اور تکلیف کیوں محسوس کرتے ہیں؟ اسی طرح جب کوئی بیمار ہو جائے تو خوش کیوں نہیں ہوتے رنج کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے یہ نہیں کہا کہ بیماری سے تکلیف نہیں ہوتی بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر بیماری کے اسباب کو مٹا دیا جاتا تو پھر جو کچھ ہوتا وہ تکلیف دہ ہوتا۔پس ہم یہ نہیں کہتے کہ جو شخص بیمار ہوتا ہے اسے آرام ملتا ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا قانون بنایا جاتا جس سے بیماری دور ہو جاتی تو وہ یا تو انسان کو محض مجبور بنا دیتا اور یہ نہیں ہوسکتا تھا اور یا پھر اس کی حسوں کو باطل کر دیتا جو بیماری کی نسبت ہزار ہا درجے زیادہ نا قابل برداشت ہوتا۔پس ان ترقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو موجودہ قانون کی وجہ سے انسان کے سامنے ہیں بیماریاں تکلیف وغیرہ سب ایک رحمت ہیں یا رحمت سے بھاگنے کی سزا پس ان کے باوجود خدا تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت پر کوئی اعتراض نہیں پڑسکتا۔مصائب پر افسوس کیوں کیا جاتا ہے؟ یا درکھنا چاہئے کہ مصائب تین قسم کے ہوتے ہیں۔قسم اول کے مصائب وہ ہوتے ہیں جو احکام شریعت کے رد کرنے یا ان کی بے قدری کرنے کے سبب سے نازل ہوتے ہیں۔دوسری قسم کے مصائب وہ ہیں کہ جو قانون قدرت کے توڑنے کے سبب سے آتے ہیں جیسے مثلاً ایک شخص کے معدہ میں تین چپاتیاں پچانے کی طاقت ہے مگر وہ چار کھاتا ہے اور بیمار ہو جاتا ہے۔تیسری قسم کے مصائب وہ ہیں جو اتفاقاً پیش آجاتے ہیں ایک شخص کا