ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 194

۱۹۴ سردی کا موسم یکساں ہو جائے ، ٹھنڈے پانی اور گرم پانی کا احساس باقی نہ رہے، میٹھا، کڑوا، سلونا کوئی مزا محسوس نہ ہو سختی نرمی کا کچھ پتہ نہ لگے، جسم لوہے کی طرح سخت ہو، خوشبو اور بدبو کا امتیاز باقی نہ رہے اور اس کے نتیجہ میں بیماری بھی پیدا نہ ہو تو کیا اس زندگی کو دُنیا خود بیماری کہے گی یا نعمت سمجھے گی؟ کسی عقلمند انسان کے سامنے اس تجویز کو پیش کر کے دیکھو وہ اسے جنون قرار دے گا۔خواہ لاکھ اسے سمجھاؤ کہ اس طرح بیماری کا دروازہ بند ہو جائے گا وہ کبھی تسلیم نہ کرے گا اور یہی کہے گا کہ بیماری تو کبھی کبھی اور کسی کسی کو آتی ہے مگر تمہاری تجویز سے تو ہر شخص کے لئے زندگی کا ہی دروازہ بند ہو جائے گا یہی حسیں تو روزانہ میرے کام آتی ہیں اور میری زندگی کے دلچسپ بنانے کا موجب ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے زندگی کو دلچسپ بنانے کے لئے انسان کو یہ حسیں دی ہیں۔ان کے استعمال میں جب انسان غلطی کر بیٹھتا ہے تو بیمار ہو جاتا ہے اور بیماری اسی طرح اڑائی جاسکتی ہے کہ یا یہ حسیں اُڑا دی جائیں یا پھر انسان کا اپنا ارادہ ہی باقی نہ رہے وہ اپنے ہر کام میں مجبور ہو۔ثانی الذکر صورت کے اختیار کرنے سے انسان کی پیدائش کی غرض باطل ہو جاتی ہے اور اوّل الذکر صورت اختیار کرنے کو خود انسان ہی پسند نہ کرے گا۔پس وہی طریق سب سے مناسب ہے جو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ہر کام میں تکلیف ہوتی ہے اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ تکلیف تو دنیا کے سارے پیشوں میں ہی ہوتی ہے۔زمیندار ایک کھیت تیار کرتا ہے تو کیا یو نہی کر لیتا ہے؟ ہل چلاتے وقت بیسیوں چکر کا تا ہے، سردی گرمی کی تکلیف برداشت کرتا ہے، اس کے بیوی بچے الگ