ہستی باری تعالیٰ — Page 188
آٹھواں جواب IAA یہ ہے کہ جب انسان عسر یسر سے گزرتے وقت صبر و استقامت سے کام لیتا ہے تو اس پر ترقی کے دروازے کھولے جاتے ہیں کیونکہ تمام ترقیات کے پانے کا ذریعہ نگی اور مشکلات ہی ہیں اور جو انسان ان میں سے کامیابی کے ساتھ گزرتا ہے وہی خدا کا قرب پا سکتا ہے۔پس اگر مشکلات نہ ہوتیں تو گویا انسان کو پیدا ہی نہ کیا جاتا کیونکہ اگر تکلیفیں نہ ہوتیں اور ان میں انسان نہ پڑتا تو اس کو خدا کے انعام کس طرح ملتے اور جس غرض کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے وہ کس طرح پوری ہوتی۔دیکھو سکولوں میں لڑکوں کو دوڑاتے ہیں اگر کوئی لڑکا نہ دوڑے تو اس کے لئے انعام کیسا ؟ دوڑنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے مگر جو دوڑتا ہے اس کو انعام ملتا ہے اور تکلیف کے مطابق ہی ملتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کا قرب جیسا بڑا انعام ہے ویسی ہی بڑی اس کے لئے تکالیف بھی ہیں۔پھر کہتے ہیں جو لوگ اس طرح مرتے ہیں ان کے رشتہ دار کیا کہتے ہوں گے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔یا تو خدا کو ماننے والے یا نہ ماننے والے۔ماننے والے تو کہیں گے کہ خدا کے قانون قدرت کے ماتحت اپنے عمل کے مطابق یا خدا کی خاص حکمت کے ماتحت مرنے والے نے جان دی ہے اور جو نہیں مانتے انہوں نے جب خدا کو مانا ہی نہیں تو انہوں نے کیا کہنا ہے وہ اپنے ذہنی قانون قدرت کو گالیاں دیتے ہوں گے۔دیگر اشیاء کے پیدا کرنے کی وجہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ مخلوق تو وہ ہے جو ذی روح ہے ان کے متعلق تم نے کہہ لیا کہ اس