ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 182

IAM دی۔مادہ کا پیدا کرنا اس کے اختیار میں نہ تھا اس لئے اس نے جو اچھی سے اچھی صورت ہو سکتی تھی وہ بنادی۔گویا ان لوگوں نے اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے خدا تعالی کی قدرت کا ہی انکار کر دیا ہے۔بعض اہلِ یورپ یہ جواب دیتے ہیں کہ ان بحثوں میں پڑنا فضول ہے۔واقع یہ ہے کہ خدا کا رحم قانون قدرت میں نظر آتا ہے اسی طرح شیر و چیتے بھی نظر آتے ہیں۔یہ واقعات سب کے سامنے ہیں وجہ دریافت کرنے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔اہلِ ہند کا جواب اہلِ ہند نے اس سوال کو اس طرح حل کیا ہے کہ خدا نے شیر چیتے یونہی نہیں بنائے۔جن روحوں سے قصور ہو گئے ، ان کو بطور سزا کے ایسے جانور بنا دیا۔اس سے خدا کے عدل اور رحم پر کوئی حرف نہیں آتا۔کیونکہ ہر ایک چیز اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے اچھی اور بُری بنی ہے۔اگر شیر بکری کو کھاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے جنم میں بکری نے شیر کو کھایا ہوگا یا کوئی اور قصور کیا ہوگا۔گویا یورپ والوں اور ہندوؤں نے یہ مان لیا ہے کہ مخلوق میں ظلم نظر آرہا ہے۔آگے یورپ والوں نے کہہ دیا کہ خدا مجبور تھا جو کچھ اس سے بن سکا وہ اس نے بنا دیا اور یہاں کے لوگوں نے کہہ دیا خدا کیا کرتا بندوں نے خود جو کچھ کیا اس کا بدلہ پارہے ہیں۔حقیقی جواب ا اس کا جواب اول تو یہ ہے کہ دنیا میں دیکھو کوئی رقم بھی نظر آتا ہے یا سب علم ہی ظلم