ہستی باری تعالیٰ — Page 181
IAL ان چاروں حدود سے مادہ کا مخلوق ہونا ثابت ہو گیا۔اب بھی اگر کوئی کہے کہ خدا نے مادہ کو پیدا نہیں کیا تو یہی کہیں گے کہ یہ خیال تمہاری سمجھ کے قصور سے پیدا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کی بعض صفات پر اعتراضات اور ان کے جواب اب میں چند موٹے موٹے اعتراضات جو صفات الہیہ پر کئے جاتے ہیں انہیں لے کر ان کے جواب دیتا ہوں۔یہ اعتراضات زیادہ تر دہریوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اور بعض فلسفیوں کی طرف سے جو گو خدا کے قائل ہیں مگر قادر وقدیر خدا کو ماننے سے گھبراتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفات رحمت پر اعتراض پہلا اور اصولی سوال خدا تعالیٰ کی صفات رحمت پر ہے۔کہا جاتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ واقع میں انہی صفات رحمت کا مالک ہے جو اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں تو کیا سبب ہے کہ دنیا میں قسم قسم کی بلائیں اور تکالیف نظر آتی ہیں۔کیا وجہ ہے کہ اس نے شیر چیتے سانپ اور اسی قسم کے اور موذی جانور پیدا کئے ہیں؟ اہل یورپ کا جواب یورپ والے تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ خدا کو جو کچھ مل سکا اس سے جو بہتر صورت بنی وہ اس نے بنا دی۔اس میں اس کا کیا قصور ہے۔جیسا مادہ تھا ویسی چیز بنا