ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 180

۱۸۰ نہیں ہے تو خدا تعالی مادہ کا مالک نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ غاصب ہے۔خدا تعالیٰ کی دیگر صفات سے مادہ کے مخلوق ہونے کا ثبوت اسی طرح اللہ تعالیٰ کی دوسری صفات لے کر جب اس مسئلہ کو حل کیا جائے تو آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مادہ مخلوق ہے مثلاً خدا قادر ہے۔آر یہ لوگ بھی خدا کو قادر مانتے ہیں اور ہم بھی لیکن اگر خدا مادہ کو پیدا نہیں کر سکتا تو اس کی قدرت کامل نہ ہوئی وہ کہتے ہیں کہ روح و مادہ کا جوڑ نا خدا کی قدرت ہے مگر ان کا بنانا اس سے بھی اعلیٰ قدرت ہے اس لئے یہی درست ہے کہ خدا نے مادہ پیدا کیا پھر وہ کہتے ہیں کہ خدا مہربان اور رحیم ہے ہم بھی یہ مانتے ہیں مگر ہم پوچھتے ہیں اگر خدا روح اور مادہ کا خالق نہیں تو اس کا کیا حق ہے کہ روح اور مادے کو کسی سبب سے سزا دے جب وہ اپنے وجود میں اس کے محتاج ہی نہیں تو خدا تعالیٰ کا یہ بھی حق نہیں کہ ان کے لئے کوئی قانون بنائے اور جب اس کا یہ حق نہیں کہ ان کے لئے کوئی قانون بنائے تو اسے یہ بھی حق نہیں کہ اس قانون کے توڑنے پر انہیں کوئی سزا دے۔جوڑنے جاڑنے سے ہرگز سزا دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہو جاتا کیونکہ سزا کا حق تو بادشاہت سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اسے حاصل نہیں کیونکہ نہ اس نے روح و مادہ کو پیدا کیا نہ انہوں نے اپنا اختیار اس کے ہاتھ میں دیا۔غرض روح و مادہ کو اگر مخلوق نہ مانا جائے تو خدا تعالیٰ رحیم نہیں بلکہ ظالم قرار پاتا ہے لیکن چونکہ آریہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خدا رحیم ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ خدا تعالی مادہ کا خالق ہے۔