ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 174

۱۷ طرف لے گئے ہیں وہ کہتے ہیں خدا وراء الوریٰ ہستی ہے جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے اور دنیا اس سے علیحدہ چیز ہے۔لیکن باوجود وراء الورٹی ہونے کے ہم کہتے ہیں کہ وہ عرش پر بیٹھا ہے اس کے ہاتھ بھی ہیں اور پاؤں بھی ہیں گو ہم اسے مجسم نہیں مانتے لیکن ہم جائز نہیں سمجھتے کہ جو صفات اس کی قرآن کریم میں آئی ہیں یا حدیثوں میں مروی ہیں ان کی کوئی تاویل کی جائے۔تیر امرته تیسرا فرقہ وہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ وراء الوریٰ ہے ہم اس کے متعلق صرف اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ وہ مخلوق سے بالکل الگ ہے اور یہ کہ اس کی صفات مخلوق کی صفات سے اور طرح کی ہیں ہاتھ وغیرہ کے جو لفظ استعمال ہوئے ہیں یہ سب تشبیہات ہیں۔مخلوق کیا ہے اس کی نسبت بھی یہی کہہ سکتے ہیں کہ اسے خدا نے پیدا کیا ہے ہم نہیں جانتے کہ کس طرح پیدا کیا ہے۔میرے نزدیک عوام الناس کے لئے اس سے زیادہ محفوظ عقیدہ نہیں ہو سکتا۔چوست فرق رت چونکہ تیسرے فرقہ کا جو عقیدہ بتایا گیا ہے گو اپنے ایمان کے لئے کافی ہو سکتا ہے مگر مخالفوں کے حملوں کے جواب میں کچھ نہ کچھ جواب اثباتی پہلو سے بھی دینا پڑتا ہے اس لئے محققین نے پیدائش عالم کے متعلق اور زیادہ وضاحت کی ہے اور آخر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عدم کے آئینہ پر اپنی صفات کا انعکاس ڈالا اور اس سے مخلوق پیدا ہوئی۔اس گروہ نے بہت حد تک الحاد کوڈ ور کیا ہے مگر اس پر بھی یہ اعتراض پڑتا ہے کہ انعکاس کس چیز