ہستی باری تعالیٰ — Page 170
12+ کیا ہر چیز کو خدا ماننے والوں کا ایمان کامل ہوتا ہے؟ پھر وہ کہتے ہیں کہ سوائے ہمارے کسی کو ایمان کامل حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ ایمان بغیر لقاء سے مکمل نہیں ہوسکتا مگر تم خدا کو وراء الورٹی کہہ کر اس کا ایسا نقشہ کھینچتے ہو کہ اس کا تصور نہیں آ سکتا مگر ہم اس کو محسوسات اور مشہودات میں دیکھتے ہیں اس لئے ہمارا ایمان کامل ہے۔ہم کہتے ہیں اگر اس طرح تمہارا ایمان کامل ہوتا ہے تو تم سے زیادہ بت پرست کامل ایمان رکھتے ہیں کہ وہ عین چیز کو سامنے رکھ کر اس کی عبادت شروع کرتے ہیں اور وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ خدا کا تصور قائم کرنے کے لئے اس طرح کرتے ہیں۔اگر کہو کہ وہ غیر اللہ سمجھتے ہیں اس لئے ان کا فعل جائز نہیں تو ہم کہتے ہیں کہ تم عین اللہ سمجھ کر ان چیزوں کی پرستش کیوں نہیں کرتے تا کہ لقاء زیادہ کامل ہو جائے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ ایمان کے لئے تصور کی ضرورت نہیں۔تصور کے معنے تو صورت کو ذہن میں لانے کے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کوئی صورت نہیں اور اگر اس کے معنی صفات کو یاد کر نا کرو تو جو وحدت وجود کے قائل ہیں وہ بھی اس قسم کا تصور کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں اور یہ تصور حضور قلب کے لئے کافی ہوتا ہے۔دیکھو بجلی نظر نہیں آتی اب بجلی کا لفظ جب بولتے ہیں تو اس کے ظہور ہمارے ذہن میں آجاتے ہیں مگر کیا ان ظہوروں کا ذہن میں آنا کافی نہیں ہوتا ؟ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ تصور کا لفظ ان لوگوں کی ایجاد ہے۔خدا تعالیٰ نے کہاں کہا