ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 171

ہے کہ مجھے تصور میں لاؤ۔خدا نے تو یہ کہا ہے کہ مجھے جانو اور میری معرفت حاصل کرو، میرا علم حاصل کرو اور یہ اس کی صفات سے ہوسکتا ہے۔تیسرا جواب یہ ہے کہ معرفت کے مختلف ذرائع ہیں کبھی کسی چیز کی معرفت تصور سے ہوتی ہے کبھی اس کے آثار کے تصور سے کبھی مشابہ کیفیات کے تصور سے جیسے اپنے غصے پر قیاس کر کے ہم دوسروں کے غصہ کو سمجھ جاتے ہیں اور کبھی معرفت قبل از وقت سنی ہوئی تعریف کو یاد کر کے حاصل ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کی معرفت بھی پچھلے تین ذرائع سے ہوتی ہے۔بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت جو کچھ بندہ کو معلوم ہوتا ہے اور اس پر جو ایمان اسے حاصل ہوتا ہے اس کی وجہ سے اس کا ذکر آتے ہی صفات الہیہ کی یاد اس کے دل میں ایسا ہیجان پیدا کر دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف کھینچتا ہو محسوس کرتا ہے اگر کسی شخص سے کوئی پوچھے کہ اللہ کون ہے؟ تو وہ یہی کرے گا کہ اس کی صفات گن دے۔کہہ دے کہ وہ رحمن ہے رحیم ہے رؤف ہے خالق ہے مالک ہے۔اس سے معلوم ہو ا کہ اس کی ذات کا صحیح تصوّر اس کی صفات ہی کے ذریعہ سے ہوتا ہے کیونکہ بندہ کو اس سے تعلق اس کی صفات ہی کے ذریعہ سے پیدا ہوتا ہے ورنہ دوسری اشیاء کو دیکھ کر اصل خیال انہی کا ہو گا نہ کہ خدا کا۔ہم کس طرح تسلیم کر لیں کہ رحمن کے لفظ پر غور کر کے یا خدا کی رحمت کے نشانوں پر غور کر کے تو ہمارے دل میں حقیقی جذبہ محبت پیدا نہ ہولیکن کدو دیکھ کر بجائے کدو کے خیال کے خدا تعالیٰ کا خیال پیدا ہو جائے۔