ہستی باری تعالیٰ — Page 166
۱۶۶ اس کے زیادہ قریب کیونکر ہو سکتا ہے۔پس جب غیر کوئی ہے ہی نہیں تو مطلق و مقید کی بحث یہاں پیدا ہوتی ہی نہیں۔مقید و مطلق تو غیر کو فرض کر کے بنتے ہیں جب چیز ہی ایک ہے تو مقید کو قید کس نے کیا؟ یہ ساری آیت یوں ہے وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ - (ق: ۱۷ ) اور یقیناً ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہمیں پتہ ہے کہ اس کے دل میں شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں۔مگر اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے اسے پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ہم حَبْلِ الْوَرِيدِ سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں۔حبل الورید کے معنی اس رگ کے ہیں جو دل سے دماغ کی طرف خون پہنچاتی ہے اور طب سے پتہ لگتا ہے کہ دماغ کبھی کام نہیں کر سکتا جب تک اسے خون نہ پہنچے تو گویا د ماغ کا کام بھی رگ جان کی امداد پر منحصر ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زندگی کے ساتھ خیالات اور خیالات کے ساتھ وساوس لگے ہوئے ہیں اور بیشک یہ انسان کے راستہ میں روک بنتے ہیں مگر رگ جان سے بھی ہم انسان کے زیادہ قریب ہیں کہ رگ جان کئے تو مرتے مرتے انسان کو پھر بھی چند سکنڈ لگیں گے لیکن ہماری مدد بند ہو تو انسان کی تباہی پر کوئی وقت بھی نہ لگے۔پس کیوں انسان ایسے وساوس اور شبہات کے وقتوں میں ہماری طرف توجہ نہیں کرتا کہ ہم اس کے وسوسوں کو اور شہوں کو دور کریں۔کیا وہ باوجود اس کے کہ اس کا ذرہ ذرہ ہمارے قبضہ میں ہے یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے وساوس کا علاج ہمارے پاس نہیں؟ حالانکہ وساوس و خیالات زندگی کا ایک شعبہ ہیں اور زندگی خود ہمارے ذریعہ سے ہے پس اس کی مشکلات کو حل کرنا بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے۔