ہستی باری تعالیٰ — Page 12
۱۲ اور کہتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ فی الواقع ہوتا تو چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ کا خیال دُنیا میں الہام کے ذریعہ سے پیدا ہوتا مگر ہم جیسا انسانی ارتقاء کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بالا ہستی کا خیال آہستہ آہستہ قوموں میں پیدا ہوا ہے۔چنانچہ وہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے اقوام میں ان اشیاء کی پرستش شروع ہوئی ہے جن سے انسان ڈرا ہے۔جس طرح ایک بچہ ڈر کر لجاجت اور گریہ وزاری کرنے لگ جاتا ہے اسی طرح جب انسان بعض چیزوں سے مرعوب ہوا اور ڈرا تو یہ ان کے آگے لجاجت کرنے لگا اور ہاتھ جوڑنے لگا اس سے عبادت پیدا ہوئی پھر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اپنے سے بالا ہستیوں کا خیال راسخ ہوتا گیا اور تعلیم کی ترقی کے ساتھ انسان نے ادنی چیزوں سے نظر اُٹھا کر صرف بالا ہستیوں کو پوجنا شروع کیا۔پھر کچھ مدت کے بعد جب اور علمی ترقی ہوئی تو بالا ہستیاں غیر مادی قرار پا گئیں اور جن چیزوں کی پہلے پرستش کی جاتی تھی وہ ان کا مظہر قرار پائیں اور آخری قدم یہ تھا کہ ایک واحد ہستی جو سب پر فائق تھی تجویز ہوئی۔پس خدا تعالیٰ کا خیال بندے کی مخلوق ہے نہ کہ کوئی بالا ہستی بندے کی خالق۔چنانچہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ سب سے پہلا علم جو دنیا میں رائج ہوا ہے وہ علم ہیئت تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ سورج، چاند، ستارے سب سے زیادہ انسانی عقل کو حیران کرنے والے تھے اس لئے سب سے پہلے انہی کو خدا قرار دیا گیا اور ان کی چالوں پر غورشروع ہوا تا کہ معلوم ہو سکے کہ خدا کا منشاء کیا ہے اور اس سے علم ہیئت کی ترقی ہوئی۔علم اور فکر کی ترقی سے متاثر ہو کر جب لوگوں نے اس خیال سے تسلی نہ پائی تو پنڈتوں نے ان چیزوں کو بالا ہستیوں کے مظاہر قرار دے دیا پس خیالات کے اس ارتقاء سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالے کا خیال انسانی دماغ کی ایجاد ہے نہ کہ کسی حقیقت پر مبنی یا کسی الہام کا نتیجہ ہے۔اگر فی الواقع خدا ہوتا اور الہام سے دُنیا کو اس خیال کی طرف توجہ پیدا ہوتی تو