ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 11

چوھتا جوار یہ ہے کہ یہاں یہ ہی نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے وجود پر غور ہی کیوں کریں کیونکہ غور ہماری طرف سے شروع ہی نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ خود اپنے ایلچی بھیج بھیج کر ہمیں اپنی طرف بلاتا اور ہماری توجہ کو کھینچ رہا ہے۔پس جب بلاوا دوسری طرف سے آ رہا ہے تو یہ سوال ہی غلط ہے کہ ہم کیوں خدا تعالیٰ کے وجود کے دریافت کرنے کی کوشش کریں۔جب آواز ادھر سے آرہی ہے تو ہماری کوشش کا سوال ہی اُٹھ گیا۔اگر چلتے چلتے ایک چیز ہمارے سامنے آجائے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم اسے کیوں دیکھیں کیونکہ وہ چیز ہمارے ارادے سے پہلے ہمارے سامنے آگئی ہے۔پس جب خدا تعالیٰ کی طرف سے اینچی ہماری طرف آ رہا ہے تو اب اس سوال کے معنی ہی کیا ہوئے کہ ہم اس سوال پر کیوں غور کریں۔اس کا جواب صاف ہے کہ اس لئے غور کریں کہ یہ سوال ہمارے سامنے آ گیا ہے اور ایسے رنگ میں آگیا ہے کہ اس سے غفلت کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے فرستادوں کا سلسلہ ایسا چلایا ہے کہ ایک منکرِ خدا کہہ سکتا ہے کہ دق کر دیا ہے اور جب تک لوگ انکار کرتے رہیں گے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔حضرت نوح " ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ، حضرت عیسی ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود کے آنے پر بھی جو لوگ نہیں مانتے اگر وہ انکار کرتے چلے جائیں گے تو پھر کسی اور رسول کو بھیج دے گا۔لوگوں میں خدا کا خیال کس طرح پیدا ہوا؟ جب اس سوال کو اس طرح رد کیا جاتا ہے تو منکرانِ خُدا اور طرف رُخ بدلتے ہیں