ہستی باری تعالیٰ — Page 145
۱۴۵ وقت کا ضائع کرنا ہوگا اور بسا اوقات مکروہ ہوگا اور بسا اوقات ناجائز ہوگا گوشرک کی حد تک نہ پہنچے کیونکہ دوسرے سے دُعا کرانے کی اصل حکمت صحبت صالح کی طرف توجہ دلانا ہے۔اگر مردوں سے دُعا کرانے کا دروازہ کھلا ہو تو زندوں سے دُعا کرانے کا رواج اور اس طرح صحبت صالح سے فائدہ اُٹھانے کا رواج بہت کم ہو جائے گا اور اس سے دنیا کی روحانی ترقی کو نقصان پہنچے گا۔میرے نزدیک زندہ سے دعا کرانے کا فائدہ خواہ وہ وفات یافتہ سے بہت ہی کم درجہ پر کیوں نہ ہو بہت زیادہ ہو گا (بشرطیکہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مُردہ سے دُعا کرانے کا اس موقع پر اسے کوئی فائدہ ہوا ہے )۔مردہ سے دُعا کرانے کا جو استثناء میں نے بیان کیا ہے اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ملتی ہے۔آپ کو بعض کشوف کے ذریعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح " ناصری سے ملایا گیا اور ان سے دعا کی خواہش کرائی گئی جسے آپ نے اپنی بعض تحریروں میں اور نظموں میں بیان کیا ہے اور جاہل اور نادان خشک ملاؤں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔کیا شرک بخشا نہیں جائے گا جبکہ میں نے اس امر پر خاص زور دیا ہے کہ شرک ایک نہایت باریک سوال ہے تو یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ایسے باریک سوال پر اس قدر سخت گرفت کیوں رکھی ہے کہ وہ بخشا ہی نہیں جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ شرک با وجود تو بہ کے نہیں بخشا جائے گا۔کوئی گناہ بھی ایسا نہیں کہ جو تو بہ سے بخشا نہ جائے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرک نہیں بخشا جائے گا تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ بعض گناہ ایسے ہیں جو بعض