ہستی باری تعالیٰ — Page 144
م ۱۴ دعا کرانا شرک ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان امور کے لئے کسی زندہ سے التجا کرنا بھی شرک ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں اور طبعی قانون سے بالا ہیں۔پس مُردے سے کیونکر جائز ہوسکتا تھا زندہ سے انسان دُعا کرتا نہیں بلکہ اس سے دُعا کراتا ہے۔اگر کہا جائے کہ مُردے سے دُعا کرانا تو پھر شرک نہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مردے گو سنتے ہیں مگر ان کا سننا خدا تعالیٰ کے خاص حکم کے ماتحت ہوتا ہے وہ انسانوں کی طرح ہر ایک بات جو اُن کی قبر پر کہی جائے نہیں سنتے۔ہاں ان کی رُوح کو اپنے دنیوی عزیزوں سے ایک تعلق پیدا کرانے کے لئے بعض امور ان کو سنائے جاتے ہیں۔پس ایسے وجودوں سے دعا کرانے کی خواہش کرنا جن کا ہر ایک بات سننا بھی یقینی نہیں بلکہ خدا کے خاص حکم کے ماتحت ان کو باتیں سنائی جاتی ہیں اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے، اتنی دیر انسان خدا سے ہی کیوں دعا نہ کرے۔ہاں اگر کشف یا وحی سے کسی انسان کو کسی مردہ بزرگ کی زیارت کرائی جائے اور اس پر منکشف ہو جائے کہ اسے اس کے لئے دُعا یا شفاعت کی توفیق دی جائے گی اور وہ اس سے دُعا کے لئے کہے تو یہ جائز ہوگا بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہوگی جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بار یک روحانی علم دیا گیا ہے۔اگر یہ حالت نہ ہو تو جو شخص اس خیال سے مُردہ سے دُعا کراتا ہے کہ وہ ضرور اس کی باتیں سن رہا ہے اور ضرور دعا کرے گا اور ضرور اسکی سنی جائیگی وہ مشرک ہے اور مشرکانہ فعل کرتا ہے اور جو شخص سمجھتا ہے کہ طبعی قانون کے ماتحت رہے یہ اور دنیا میں ہیں خدا کا خاص فعل ان کو دنیا کی آوازیں سنا سکتا ہے اور خدا کی خاص اجازت سے ہی یہ دُعا کر سکتے ہیں اور خدا چاہے تو ان کی سُنے اور چاہے تو نہ سنے تو ایسے شخص کا مردہ سے دعا کی خواہش کرنا شرک نہ ہوگا۔ہاں بسا اوقات ایک عبث فعل اور