ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 138

صرف خدا کی ذات محفوظ ہے اور غیر طبعی زندگی اور وہ بھی ایسی کہ اس میں نہ کھانا ہے نہ پینا نہ حوائج انسانی کا پورا کرنا در حقیقت ابدیت کا ہی دوسرا نام ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک دفعہ تو ضرور ہی ایک انسان کو ماردیتا ہے۔پھر خواہ ابدی زندگی ہی دے دے۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس دُنیا میں جنت نہیں بنائی تاکہ لوگوں کو ایسے آدمی دیکھ کر جو موت سے محفوظ ہوں خدا تعالیٰ کی ابدیت کی حقیقت میں شبہ نہ پیدا ہو جائے۔شرک کی چھٹی قسم چھٹی قسم شرک کی یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے اسباب کو بالکل نظر انداز کر دے اور یہ سمجھے کہ کسی شخص یا کسی چیز نے بلا ان اسباب کے استعمال کرنے کے جو خدا تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے مقرر کئے ہیں اپنی ذاتی اور خاص طاقت کے ذریعہ سے اس کام کو کر دیا ہے مثلاً خدا تعالیٰ نے آگ کو جلانے کے لئے پیدا کیا ہے۔اب اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ کسی شخص نے بلا آگ اور بلا ایسے ہی دوسرے ذرائع کے استعمال کرنے کے اپنی ذاتی طاقت سے آگ لگا دی اور قانون قدرت کو گو یا توڑ دیا یہ شرک ہے لیکن اس میں مسمریزم وغیرہ شامل نہیں کیونکہ یہ طاقتیں خود قانون قدرت کے اندر ہیں اور کسی شخص کے ذاتی کمالات نہیں بلکہ سب لوگوں میں موجود ہیں اور قانون قدرت کے صحیح استعمال کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔پس جو جو کام اس قسم کی طاقتوں کے ذریعہ سے ہو سکتے ہیں جیسے اعصاب کی جس کو مار دینا۔بے ہوش کر دینا۔جسم کو سخت کر دینا وغیرہ ان پر یقین لانا شرک نہیں کہلائے گا۔پس جو اسباب خدا نے کسی چیز کے ہونے کے لئے رکھے ہیں ان کے بغیر خیال کرنا