ہستی باری تعالیٰ — Page 119
119 نہیں سکتی تھی کہ خدا عذاب بھی دے سکتا ہے۔پس اس نے بدی کی سزا کا تو انکار کر دیا اور نیکی کے انعام کو قائم رکھا۔مسیحیوں کا خدا کے متعلق خیال اب میں مختلف مذاہب کے پیش کردہ خیالات کو ایک ایک کر کے لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کے متعلق کیا تعلیم دیتے ہیں اور اس بارے میں ان کی تعلیم کہاں تک درست یا غلط ہے۔چونکہ اس وقت مسیحیت کا غلبہ ہے پہلے میں اسی مذہب کے خیالات کو بیان کرتا ہوں۔مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ ایک خدا کی تین شاخیں ہیں (۱) خدا باپ (۲) خدا بیٹا (۳) خدا روح القدس اور پھر یہ تینوں مل کر ایک بھی ہیں۔پھر صفات کے متعلق ان کا خیال یہ ہے کہ خدا کی خاص صفات میں سے ایک صفت عدل کی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ عادل نہ ہو تو ظالم قرار پائے گا۔لیکن ظالم ہونا خدا کے لئے محال ہے پس اس کے عدل میں کسی صورت میں فرق نہیں آسکتا۔اب چونکہ دنیا میں عموما اور مسیحی دنیا میں خصوصا گناہوں کا سلسلہ نظر آتا ہے جسے دیکھتے ہوئے نجات بالکل ناممکن نظر آتی ہے کیونکہ اپنے عمل سے انسان نجات نہیں پاسکتا اور خدا کا عدل چاہتا ہے کہ گناہ کی سزا دے پس نجات کی صورت وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ خدا نے جب دیکھا کہ میرا عدل بنی نوع انسان کی نجات کی راہ میں روک ہے تو اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو انسان کی شکل میں دنیا میں بھیجا تا کہ وہ لوگوں کے گناہ اُٹھا لے۔چنانچہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے ہی تھے جو انسانی شکل میں ظاہر ہوئے اور باوجود بے گناہ ہونے کے بنی نوع انسان کے گناہ اُٹھا کر صلیب پر لٹکائے گئے۔اب جو کوئی ان کے اس طرح کفارہ ہونے پر ایمان لائے وہ