ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 117

112 اذان میں اور نمازوں میں اللہ اکبر کہو۔غرض اسلام میں ہی اللہ تعالیٰ کا اسم ذات پایا جاتا ہے اور وہ اللہ کا لفظ ہے۔اللہ کا لفظ نہ مرتب ہے نہ مشتق نہ اس کے کوئی معنے ہیں یہ صرف اور صرف نام ہے۔بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ لا الہ سے ہمزہ حذف ہوکر اللہ کا لفظ بن گیا ہے بالکل غلطی کرتے ہیں اس لئے کہ لا الہ کا لفظ تو ہر معبود کے متعلق خواہ جھوٹا ہو یا سچا ہو جس کا ذکر ہورہا ہو بولا جا سکتا ہے لیکن عرب لوگ اللہ کا لفظ کبھی بھی خدا کے سوا کسی اور معبود کے لئے استعمال نہیں کرتے تھے۔اگر اللہ لا الہ سے بنا ہے تو وہ بتوں پر اس لفظ کو کیوں نہ استعمال کرتے۔دوسرے قرآن کریم میں اس لفظ کو ہمیشہ اسم ذات کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور صفات کو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ اسے قرآن کریم اسم ذات قرار دیتا ہے نہ کہ اسم صفت۔۳۔عربی کا قاعدہ ہے کہ جس لفظ کے شروع میں ال تعریف کا ہو اگر اس کو پکارا جائے تو اس کے پہلے حرف ندا کے بعد آئیکا کا لفظ بڑھاتے ہیں۔لیکن اللہ کو پکارتے ہوئے یا آیا اللہ نہیں کہتے بلکہ یا اللہ کہتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے لفظ میں ال تعریف کا نہیں ہے بلکہ خود لفظ کا حصہ ہے۔اللہ کیا ہے؟ نام معلوم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذات جس کا نام اللہ ہے وہ کیا ہے؟ گویا اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ یا ہوا کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا نام ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ ہے کیا ؟