ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 101

1+1 کرنے کے لئے ایسا نہیں کرتا بلکہ اگر شک ہو تو ان سے ثبوت طلب کرتے ہیں آگے ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جس رنگ میں چاہیں ثبوت دیں۔اگر وہ ثبوت ان کے دعوی کو ثابت کرنے والا ہو تو لوگوں کو مانا پڑتا ہے خواہ وہ اس رنگ کا نہ ہو جس رنگ کا ثبوت کہ لوگ چاہتے تھے۔اسی طرح کیا کوئی شاگرد یہ بھی کہا کرتا ہے کہ میں استاد کا امتحان پہلے لے لوں پھر سمجھوں گا کہ وہ میرا استاد بننے کے قابل ہے یا نہیں۔جب وہ اس سے پڑھے گا اسے خود ہی اس کی قابلیت یا جہالت کا علم ہو جائے گا یا بادشاہ کی مثال لو اگر کسی بادشاہ کے متعلق کوئی سوال مثلاً یہی ہو کہ وہ گھوڑے کی سواری جانتا ہے یا نہیں تو کیا منکر اس سوال کو اس طرح حل کرے گا کہ کہے گا کہ فلاں گھوڑے پر چڑھ کر فلاں گلی میں سے گزرے تب میں مانوں گا کہ وہ سوار ہے یا یہ کرے گا کہ اگر بادشاہ سے پوچھ سکتا ہے تو اس سے پوچھ لے گا کہ کیا آپ سواری اچھی جانتے ہیں؟ پوچھ بھی نہیں سکتا تو جو اس کے مقرب ہیں ان سے دریافت کرے گا اور اگر یہ بھی طاقت نہیں تو ایسے موقع کا منتظر رہے گا جب وہ سوار ہو کر نکلے اور یہ اس کی سواری کا اندازہ کر سکے اگر ایسا شخص بادشاہ کے پاس جا کر اس قسم کا سوال کریگا کہ چل کر امتحان دو تو یقیناً یہ سزا پائے گا۔پس خدا تعالیٰ چونکہ ہمارے ماتحت نہیں بلکہ ہم اس کے ماتحت ہیں اور وہ سب پر غالب اور سب کا حاکم ہے اس لئے اس کا پتہ لگانے کے لئے یہ کہنا درست نہیں کہ جس طرح ہم کہیں اس طرح کر دے تو ہم مانیں گے۔بلکہ خدا کے انبیاء سے اس کی ہستی کے متعلق دریافت کرنا چاہئے جو خدا تعالیٰ کو اس کی شان کے مطابق تمام آداب کو مد نظر رکھ کر اس کا پتہ لگاتے ہیں یا خود خدا تعالیٰ کی شان کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا پتہ لگانا چاہئے اور خدا تعالیٰ جو ثبوت پیش کرے اگر وہ ثبوت کی حد تک پہنچ جائے تو اسے قبول کرنا چاہیے نہ کہ یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح ہم خود چاہیں اس طرح خدا کر دے۔