ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 90

۹۰ رہے تھے۔انہوں نے پاؤں دباتے دباتے دیکھا کہ کوئی تیلی تیلی چیز آپ کے پاؤں پر گری ہے۔ہاتھ لگا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ گیلا سرخ رنگ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں حیران ہوا کہ یہ کیا چیز ہے اور یہ خیال کر کے کہ شاید چھپکلی وغیرہ کا خون ہو میں نے چھت کی طرف جو دیکھا تو وہ بالکل صاف تھی اور اس پر چھپکلی کا کوئی نشان نہ تھا پھر وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ٹوپی کو دیکھا تو اس پر بھی کچھ چھینٹے تھے حضرت مسیح موعود اس وقت کسی قدر بیدار ہوئے اور آنکھیں کھولیں تو آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ کے گرتے پر بھی کئی چھینٹے ویسے ہی سُرخ رنگ کے پڑے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یه نشان تازہ بتازہ پڑے ہیں یہ کیسے ہیں؟ پہلے تو آپ نے فرمایا کسی طرح نشان پڑ گئے ہوں گے۔مگر جب میں نے زور دیا کہ حضور یہ تو میرے دیکھتے ہوئے پڑے ہیں اور تازہ ہیں تو پھر آپ نے سنایا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بطور جج کے بیٹھا ہے اور میں ریڈر کے طور پر سامنے کھڑا ہوں اور کچھ کاغذات دستخطوں کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالی نے سرخی کی دوات میں قلم ڈبوئی اور قلم کو چھڑ کا جس کے چھینٹے میرے کپڑوں پر گرے اور اس کا اثر ظاہر میں بھی ظاہر ہو گیا یہ خواب تفصیل سے آپ کی کتب میں موجود ہے۔اب دیکھو یہ خلق ہے یا نہیں؟ وہ سرخی اگر خدا نے پیدا نہیں کی تھی تو کہاں سے آئی تھی؟ غرض اب بھی صفت خلق کے ماتحت نشان دکھائے جا رہے ہیں مگر اس کے نظائر مؤمنوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔خود میرا اپنا ایک مشاہدہ ہے۔ایک دفعہ میں سورہا تھا میں نے سوتے سوتے دیکھا کہ میرے منہ میں مشک ڈالی گئی ہے۔جب میں اُٹھا تو منہ سے مشک کی خوشبو آ رہی تھی میں نے سمجھا شاید خواب کا اثر ہے اور گھر والوں کو کہا کہ میرا منہ سونگھو انہوں نے بھی بتایا مفہوما تذکرہ صفحہ ۱۲۶- ۱۲۷ ایڈیشن چہارم