ہستی باری تعالیٰ — Page 71
ظالموں سے جنہوں نے انتہائی درجہ کے ظلم اس سے اور اس کے ساتھیوں سے کئے تھے پوچھتا ہے کہ بتاؤ تو میں تم سے کیا سلوک کروں ؟ اور جب وہ شرمندگی سے اس کے سامنے گردن ڈال دیتے ہیں تو فرماتا ہے جاؤ میں نے تم سب کو معاف کر دیا۔کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اتفاقاً بعض کمزور لوگوں کو طاقت مل جاتی ہے مگر رسول کریم کے معاملہ میں فتح اور غلبہ اتفاق نہیں کہلا سکتا کیونکہ آپ نے اپنی کمزوری کی حالت میں پیشگوئی کر دی تھی کہ مجھے غلبہ ملے گا اور پھر اس دعوئی کے مطابق آپ کو غلبہ ملا اور پھر آپ کا غالب ہو کر اپنے دشمنوں کو معاف کر دینا بھی بتا تا ہے کہ ایک زبر دست طاقت پر آپ کو یقین تھا اور کامل یقین تھا کہ میرے غلبہ کو کوئی شکست سے بدل نہیں سکتا تبھی تو آپ نے ایسے خطرناک دشمنوں کو بلا شرط معاف کر دیا۔اس قسم کے غلبہ کی مثال دنیا میں اور کہاں ملتی ہے؟ موجودہ زمانہ میں خدا کی صفت عزیز کا ثبوت پھر اسی زمانہ میں دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا۔جن کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو اس وقت ہندوستان میں سے بارسوخ عالم تھے، کہا کہ میں نے ہی اس کو بڑھایا ہے اور میں ہی اسے تباہ کروں گا۔مگر دیکھو کون مٹ گیا اور کون بڑھا۔مولوی محمد حسین صاحب کا اب کوئی نام بھی نہیں لیتا حالانکہ یہی مولوی محمد حسین صاحب جب مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت سے قبل کہیں جاتے تھے تو لوگ سڑکوں پر جمع ہو جاتے تھے اور کھڑے ہو ہو کر تعظیم کرتے تھے۔غرض انہوں نے مخالفت کی اور سب کو مخالفت کے لئے بھڑکا یا۔شروع شروع میں گورنمنٹ بھی ناراض تھی کیونکہ آپ نے مہدی