ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 54

۵۴ مگر اب ان کو بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔بات یہ ہے کہ اس قسم کی چیزیں انسان کے لئے خزانے ہیں جن میں سے کوئی ہوا میں رکھ دیا گیا ہے کوئی سمندر میں کوئی زمین میں تاکہ انسان علمی ترقیاں کر کے انہیں حاصل کرے اور فائدہ اٹھائے۔جو کچھ ان کے متعلق دریافت ہو چکا ہے وہ لاکھوں فوائد پر دلالت کرتا ہے، جو حال ابھی نہیں گھلا اسے ہم معلوم پر قیاس کر سکتے ہیں۔دوسرا اعتراض دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہزار ہا بوٹیاں خشکی اور تری میں ایسی پیدا ہوتی ہیں جو یونہی تباہ ہو جاتی ہیں اور ہزار ہا جانور خشکی و تری میں ایسے پیدا ہوتے ہیں جو پیدا ہوتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ان کا کوئی فائدہ نہیں یونہی ضائع ہو جاتے ہیں اگر کوئی خالق بالا رادہ ہوتا تو ان اشیاء کو یونہی ضائع ہونے دیتا؟ جوا ہم کہتے ہیں کہ یہ چیزیں انسان کی علمی اور ذہنی اور جسمانی اور روحانی ترقی کے لئے پیدا کی گئی ہیں ان کا اس طرح پیدا ہونا اور تباہ ہونا بھی تو انسان کی توجہ کو پھیرتا ہے پس فائدہ تو ہوا۔گو براہ راست فائدہ نہ اُٹھایا گیا مگر یہ فائدہ اُٹھا نا تو انسان کا کام ہے۔اگر وہ ان سے فائدہ نہیں اُٹھاتا تو یہ اس کا قصور ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرح ان چیزوں کی پیدائش میں حکمت ہے خدا معلوم ان کی اس طرح ہلاکت میں کیا کیا حکمتیں ہیں جن تک ابھی انسان کا دماغ نہیں پہنچا۔آخر ہم دیکھتے ہیں کہ کئی