ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 36

۳۶ کہتے ہیں یہی خدا کے ہونے کا ثبوت ہے۔کیونکہ اگر نیچر ہی سب چیزوں کے پیدا کرنے والی ہوتی خدا نہ ہوتا تو جسمانی ترقی بھی جاری رہتی اور انسان سے آگے کچھ اور بنتا۔مگر یہ ظاہر ہے کہ جسمانی تغیر بند ہو گیا ہے۔اور اس کے مقابلہ میں انسانی روح کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے کا سلسلہ جاری ہو گیا ہے۔کون سی عقل اس امر کو تسلیم کر سکتی ہے کہ نیچر ایک مقصد قرار دیتی ہے اور اس مقصد کے حصول پر اپنا راستہ بدل دیتی ہے۔انسان کی پیدائش پر ارتقاء جسمانی کا سلسلہ بند ہو جانا اور عقلی اور ذہنی ترقی کا سلسلہ رک نہ جانا بتاتا ہے کہ اس تمام ارتقاء کا بانی اور اس کا ملانے والا کوئی ایسا وجود ہے جس نے اس تمام دنیا کو ایک خاص غرض اور مقصد لے لئے پیدا کیا ہے۔جب وہ مقصد پورا ہو گیا تو ارتقاء کی لہریں جو جاری تھیں اس نے بند کر دیں۔اگر خدا تعالیٰ نہیں تو چاہئے تھا کہ انسان کی پیدائش کے بعد بھی برابر مخلوقات میں تبدیلی ہوتی رہتی اور نئے سے نئے حیوانات پیدا ہوتے رہتے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جب وہ حیوان پیدا ہو گیا جس کا ذہن اس قابل تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کر سکے اور روحانی ترقیات حاصل کر سکے تو ارتقاء کی لہر بالکل پلٹ گئی اور بجائے جسمانی ترقی کے خالص ذہنی ترقی شروع ہو گئی گو یا مقصود پورا ہو گیا اور اب جسمانی ارتقاء کی ضرورت نہ رہی جس کے ذریعہ سے ایک جنس سے دوسری جنس پیدا کی جائے۔چنانچہ اس تغیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ معا انسان کے بچپن کا عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا کر دیا گیا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض چونکہ علوم کا حصول ہے جو لمبی تربیت کو چاہتا ہے اس لئے اس کے بچپن کا زمانہ بھی لمبا بنایا گیا ہے تا وہ دیر تک ماں باپ کا محتاج رہے اور ان کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو اور ان کے علم اور تجربہ کو ان کی صحبت میں سیکھے اور ان کی تربیت سے فائدہ حاصل کرے۔اگر انسان بندر سے ترقی کر کے ایک اندھی نیچر کے