ہستی باری تعالیٰ — Page 278
۲۷۸ حُسنِ سلوک کرتا تھا جو اس کا کام کرتے تھے اب یہ کوشش کرتا ہے کہ جن سے اس کو کوئی بھی فائدہ نہیں ان سے بھی نیک سلوک کرے۔اس صفت کا حصول بھی غریب امیر سب کے لئے ممکن ہے۔قادیان میں ایک مخلص نابینا تھے حافظ معین الدین ان کا نام تھا۔انہیں اتنا تو کل حاصل تھا کہ کسی کو کم ہی ہو گا غریب آدمی تھے۔لنگر خانہ کی روٹی پر ان کا گزارہ تھا اور لوگ انہیں نا بینا سمجھ کر کبھی کبھی کچھ مدد کر دیتے تھے وہ باوجود نا بینا ہونے کے ادھر ادھر پستہ لگاتے رہتے تھے کہ کسی کے گھر فاقہ تو نہیں یا اور کوئی تکلیف تو نہیں؟ اور اگر کوئی تکلیف زدہ انہیں معلوم ہوتا تو اپنی روٹی لے جا کر اسے دے آتے۔یا اگر ان کے پاس پیسے ہوتے تو وہ دے دیتے۔ان کے اس قسم کے بہت سے واقعات مجھے معلوم ہیں۔پس اس صفت کی مشابہت پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ کوئی مالدار ہی ہو غرباء بھی اپنے ذرائع کے مطابق رحمانیت کا جامہ پہن سکتے ہیں اور بغیر کسی چھلی خدمت کے صلہ یا آئندہ کی امید کے نیکی کر سکتے ہیں۔مثلاً ایک شخص مدرسہ میں ملازم ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنے سارے وقت کے پیسے ہی وصول کروں تو یہ رحمانیت نہیں ہوگی۔جیسے مدرسہ والے عام طور پر کرتے ہیں کہ ملازمت کے وقت سے باہر بھی کسی غریب کو مفت نہیں پڑھا سکتے۔رحمانیت یہ ہے کہ جبکہ اپنے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنی معیشت کا سامان پیدا کر لیتے ہیں تو دوسرے وقت میں وہ بعض غرباء کو بغیر صلہ کی امید کے نفع پہنچا دیں۔ایک عالم اسی طریق پر اپنے علم کو خرچ کرے۔ایک مالدار ا پنا مال خرچ کرے اور یہ سمجھے کہ میں تو ایک سوراخ کے طور پر ہوں جس میں سے خدا ہاتھ ڈال کر دوسرے لوگوں کو دے رہا ہے۔جو لوگ اس مقام پر پہنچ جائیں ان پر خدا کا فیضان پھر تیسری بار نازل ہوتا ہے اور اس دفعہ خدا کی رحمانیت ان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔