ہستی باری تعالیٰ — Page 274
۲۷۴ دوں گا کیونکہ یہ گھوڑا اس سے کم قیمت کا نہیں ہے۔اگر ساری دنیا کے لوگوں کی یہی حالت ہو تو خیال کرو کہ دنیا کیسی خوبصورت بن جائے گی ؟ یا مثلاً ایک مزدور ہے جو سمجھتا ہے کہ اتنی مزدوری میں مجھے اتنا کام کرنا چاہئے وہ اس سے زیادہ کرے اور جس نے اسے لگایا ہو وہ مقررہ مزدوری سے کچھ زیادہ دیدے یہی اصول زندگی کے ہر شعبہ میں برتنے کی کوشش کی جائے۔مگر سوال ہوسکتا ہے کہ ایک غریب شخص ہے وہ کیا کرے یا زمیندار ہے وہ کیا کرے؟ اس کے متعلق میں زمینداروں ہی کی مثال دیتا ہوں۔مثلاً ایک زمیندار ہے جب وہ کھیت کاٹنے کے لئے لوگوں کو لگائے اور کہے کہ میں کاٹنے والوں کو اس اس قدر غلہ دوں گا اب اگر وہ اس غلہ سے زیادہ دے یا روٹی کھلا دے تو وہ گویا اس صفت پر عمل پیرا ہو جائیگا۔یا مثلا گئے چھیلنے پر لگایا اور اس کے لئے مزدوری مقرر کی جو ادا کر دی گئی مگر چلتے وقت اسے بچوں کے لئے گنے دے دیئے یا رس دیدی ،شکر دیدی، یہ رحیمیت ہوگی۔خواہ کتنی ہی تھوڑی چیز مزدوری سے زائد دی جائے وہ اس صفت کے ماتحت آئے گی۔پس تم میں سے ہر شخص اس صفت کو استعمال کر سکتا ہے۔اگر امیر ہے تو بدلا دینے میں زیادہ دے سکتا ہے اور اگر نوکر ہے تو کام کرنے میں زیادتی کر سکتا ہے۔مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ کسی کے نوکر ہو سکتے ہیں نہ ان کے کوئی نوکر ہو سکتے ہیں۔جیسے نابینا وغیرہ ان کی بھی رحیمیت ہے اور وہ یہ کہ جو اچھے کام کرنے والے لوگ ہیں انکی لوگوں میں قدر بڑھا ئیں۔اس طرح کام کرنے والوں کا دل بڑھتا ہے اور وہ اور زیادہ اچھا کام کر سکتے ہیں۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی کا دل بڑھانے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔لوگ اچھی رائے حاصل کرنے کے لئے بہت سا مال و دولت خرچ کر