ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 232

۲۳۲ ایک صفت دینا چاہتی ہے اور وہ صفت احدیت ہے اور صفت احدیت ظاہر نہیں ہوتی۔اگر بندہ کچھ عرصہ کے بعد مر جاتا تو کہہ سکتا تھا کہ اگر میں اور زندہ رہتا تو خدا تعالیٰ کی حقیقت اور علم کو معلوم کر سکتا تھا مگر خدا تعالیٰ نے دائمی نجات دے کر کہالے اب بھی تو میری حقیقت معلوم نہیں کر سکتا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَلَأُ الْأَعْلَى يَتْلُونَهُ كَمَا تَتْلُونَهُ * یہ مت سمجھو کہ تم خدا کو دریافت کر سکو گے ملاء اعلیٰ والے بھی اسی طرح اس کی دریافت میں لگے ہوئے ہیں جس طرح تم اس کی دریافت میں لگے ہوئے ہو مگر کوئی انتہائی درجہ کا قرب نہیں پاسکتا۔جس طرح دوسرے لوگ اس جستجو میں لگے ہوئے ہیں اسی طرح حضرت موسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی لگے ہوئے ہیں کہ خدا کی ساری صفات کو دیکھیں مگر جوں جوں کوشش کرتے ہیں اور زیادہ صفات نکلتی آتی ہیں اور وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتیں اور نہ کسی ایک صفت کی سیر ہی ختم ہوتی ہے۔غیر محدود انسانی ترقی مگر یہ ٹن کر کہ روایت کے مدارج لا انتہاء میں گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ ہم خدا کی ذات کو نہیں دیکھ سکتے اور اس کے دیکھنے کے پیچھے نہیں پڑے ہوئے بلکہ ہم نے اس کی صفات کو دیکھنا ہے اور ان کے غیر محدود ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ہماری ترقی بھی غیر محدود ہے اور ہم بہت بڑی ترقی کر سکتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص کو کوئی سونے کی کان مل جائے اور اسے کھودنے پر اسے معلوم ہو کہ اس کا سونا کبھی ختم ہی نہیں ہوگا تو یہ شخص افسردہ نہیں ہوگا بلکہ خوش ہو گا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کا کبھی طے نہ