ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 196

۱۹۶ کر دیکھو کیا صورت بنتی ہے۔اگر نئی نسلیں تو پیدا ہوتی رہیں لیکن کسی پر موت نہ آئے تو ایک ہزار سال کے عرصہ میں ہی دنیا پر تل دھرنے کی جگہ نہ رہے اور نہ غذا ہی کافی ملے اور یہی لوگ جو ان امور کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کے رحم پر اعتراض کرتے ہیں خدا تعالیٰ کو برا بھلا کہنے لگ جائیں کہ ہمارے باپ دادوں کو دفع بھی نہیں کرتا کہ کہیں گھر خالی ہوں اور ہم اپنے سر چھپائیں اور روٹی پیٹ بھر کر کھانے کو ملے۔پھر میں کہتا ہوں اگر دُنیا کی موجودہ حالت فی الواقع تکلیف دہ ہے تو خود کشی کا دروازہ کھلا ہے کیوں ایسے معترض یا دوسرے لوگ خود کشی نہیں کر لیتے ؟ مگر کس قدر لوگ ہیں جو اس فعل پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور جو اس فعل کے مرتکب ہوتے بھی ہیں تو انہیں دنیا کیا کہتی ہے؟ یہیں نہ کہ وہ عارضی طور پر پاگل ہو گئے تھے اگر فی الواقع یہ دنیا تکلیف ہی کی جگہ ہے تو خود کشی کرنے والے پاگل نہیں بلکہ سب سے زیادہ عقلمند ہیں جو ایک منٹ میں اپنی تکلیفوں کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔پس خود کشی نہ کرنے اور خود کشی کرنے والوں کو پاگل سمجھنے سے معلوم ہوا کہ باوجود ان شبہات کے یہ معترض بھی یہی چاہتے ہیں کہ اور جیئیں مگر جب دل کی یہ حالت ہے تو پھر اعتراض کیوں کرتے ہیں؟ غرض یہ سب باتیں انسان کے لئے ضروری ہیں اور ان پر اعتراض کرنا لغویت ہے یہ نہ تو اس لئے ہیں کہ خدا کی طاقت محدود ہے اور نہ تناسخ ان کا موجب ہے بلکہ ان سب میں خدا تعالیٰ نے حکمتیں رکھی ہیں۔صائب پر افسوس کیوں کیا جاتا ہے؟ بیان پر معترضین ایک اور اعتراض کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر یہ درست ہے کہ