ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 125

۱۲۵ ہندوؤں کا خدا کے متعلق خیال دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہندو ہے۔ان کے عقائد میں بھی خدا تعالیٰ کے متعلق بعض ایسی تعلیمیں ہیں جو خدا تعالیٰ کو ناقص ثابت کرتی ہیں یا یہ کہ و تعلیمیں عقل کے خلاف ہیں۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا دنیا میں اوتار لیتا ہے اور مخلوق کا جنم لیتا ہے اور یہ عقیدہ ان میں ایسی بری صورت میں پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں تک بھی کہہ دیتے ہیں کہ خدا نے جانوروں میں سے سوکر اور مگر مچھ کا بھی جنم لیا ہے۔اگر یہ لوگ غور کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ خدا کے جنم لینے کے یہ معنی ہیں کہ وہ محدود ہے پھر مگر مچھ اور سور کی شکل میں اس کا ظاہر ہونا تو اور بھی حقارت پیدا کرنے والا ہے اور اس عقیدہ سے بجائے خدا تعالیٰ کی عظمت ثابت ہونے کے اس کی ہتک ہوتی ہے۔اسی طرح ہندوؤں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور بہت سے دیوتا ہیں جنکو کارخانہ عالم کے چلانے میں بہت کچھ دخل حاصل ہے۔چنانچہ تین تو بڑے بڑے مظاہر تسلیم کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک تو پیدا کرنے والا ہے جسے برہما کہتے ہیں اور ایک رزق دینے والا جسے شو کہتے ہیں اور ایک مارنے والا جسے وشنو کہتے ہیں۔اس عقیدہ کی وجہ سے ان میں سے اکثر لوگ وشکو اور شو کی تو پوجا کرتے ہیں مگر برہما کی کوئی پو جا نہیں کرتا کیونکہ خیال کرتے ہیں کہ اس نے تو جو کچھ کرنا تھا کر چکا اب آئندہ تو رزق دینے والے اور مارنے والے سے ہی کام پڑنا ہے اس لئے انہی کی پوجا کرنی چاہئے۔اس کے متعلق ایک لطیفہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔کہتے ہیں کوئی راجہ تھا اس کے ہاں لڑکا نہ ہوتا تھا۔وہ برہما کی پرستش کرتا رہا جس کے نتیجہ میں لڑکا پیدا ہو گیا۔پھر اس نے اس کو