ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 126

۱۲۶ چھوڑ دیا کہ اب اس کی کیا ضرورت ہے، اب مارنے والے کی پرستش کرنی چاہئے تا کہ بیٹا زندہ رہے۔اس نے اس طرح کیا لیکن جب وہ لڑکا جوان ہوا تو اس نے کہا جس نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ مجھے پیدا کیا اس کی پرستش کرنی چاہئے اور وہ برہما کی پرستش میں لگ گیا اس پر باپ اس سے ناراض ہو گیا اور اس کا غصہ بڑھتے بڑھتے اس قدر تیز ہو گیا کہ اس نے مارنے والے پر میشور سے کہا کہ میرے لڑکے کو مار دے چنانچہ وشنو نے اس لڑکے کو مار دیا مگر برہما نے کہا اس لڑکے نے میری خاطر جان دی ہے اس لئے اسے پھر پیدا کر دینا چاہئے۔اس نے اسے پھر پیدا کر دیا اور اسی طرح یہ جنگ جاری رہی۔اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس جنگ کا خاتمہ کس طرح ہؤا اور صلح کس طرح سے ہوئی۔آریوں کا خدا کے متعلق خیال آریہ لوگ گو ہندوؤں میں سے نکلے ہیں لیکن چونکہ انہوں نے اپنے عقائد میں بہت کچھ فرق کر لیا ہے اس لئے میں ان کا الگ ذکر کرتا ہوں۔ان لوگوں کے عقیدہ میں بھی بہت کچھ کمزوریاں ہیں۔یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو پیدا نہیں کیا بلکہ دنیا کے ذرات اور ارواح خود بخود ہیں خدا نے صرف جوڑ دیا ہے اور سب صفات اقتداری کے وہ منکر ہیں۔ان کے نزدیک خدا نہ رازق ہے نہ خالق نہ حفیظ۔اور جو صورت وہ خدا کی پیش کرتے ہیں اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ اگر خدا مر بھی جائے تو بھی دنیا کا کوئی چنداں حرج نہیں۔خدا ر ہے یا نہ رہے ہم ضرور رہیں گے یہ خیال بھی ایسا ہے کہ اسے عقل انسانی تسلیم نہیں کر سکتی۔