ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 124

۱۲۴ لیکن آخری زمانہ کی نسبت انکا خیال ہے کہ اس میں نیکی کی طاقت بدی کی طاقت پر غالب آجائے گی اور شیطان جسے وہ اہرمن کہتے ہیں اس کا سر کچلا جائے گا۔اس عقیدہ پر اعتراض اس عقیدہ پر بھی بہت سے اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔مثلاً یہ کہ اس طرح شیطان خدا کی ذات میں شریک ہوا اور بجائے ایک خدا کے دو خدا ہوئے جس عقیدہ کو زرتشتی خود بھی نا پسند کرتے ہیں۔اس پر ان کے بعض محقق کہتے ہیں کہ اصل میں خدا ایک اور بھی بالا ہستی ہے اس نے دو طاقتیں ایک نیکی کی اور دوسری بدی کی پیدا کی ہیں مگر اس عقیدہ پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو پھر ظلمت خدا ہی کی طرف منسوب ہوئی۔کیونکہ اگر خدا نے شیطان کو پیدا کر کے پھر اس سے ظلمتیں پیدا کرا ئیں تو گویا خدا نے خود ہی ظلمتیں پیدا کیں۔دوسرا نقص اس عقیدہ میں یہ ہے کہ جن چیزوں کو نقصان رساں سمجھ کر شیطان کی مخلوق قرار دیا جاتا ہے ان کے بھی فوائد معلوم ہورہے ہیں اور وہ بھی مفید ثابت ہو رہی ہیں۔اندھیرے کو ہی لے لو۔اب اگر اندھیرا نہ ہوتا تو صحت افزا نیند نہ ہوتی کیونکہ طب سے ثابت ہوتا ہے کہ اندھیرے کی نیند روشنی کی نیند سے اعلی ہوتی ہے اور زیادہ مفید ہوتی ہے۔کئی ترکاریاں اور سبزیاں اندھیرے میں نشو ونما پاتی ہیں۔ہر وقت کی روشنی سے آنکھوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے، اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں تو اگر یہ درست ہے کہ اندھیرے کا پیدا کرنے والا شیطان ہے تو یہ بھی ماننا پڑیگا کہ خدا نے دنیا کو نامکمل پیدا کیا تھا شیطان کی مہربانی سے وہ مکمل ہوئی۔