ہستی باری تعالیٰ — Page 98
۹۸ یہ تو خدا تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے کی مثالیں ہیں۔اس کے سوا اقتداری علم بھی ہستی باری کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔اقتداری علم کی بڑی مثال خود قرآن کریم ہے۔اس کے متعلق دعویٰ ہے کہ کوئی ایسا کلام بنا کر نہیں لا سکتا بلکہ اس جیسی تین آیات بھی بنا کر پیش نہیں کر سکتا۔قرآن کریم انہیں الفاظ میں ہے جن کو سب استعمال کرتے ہیں اور عربی بولنے والے لوگوں میں اسلام کے دشمن بھی ہیں اور خود مذہب کے دشمن بھی ہیں۔دہریے بھی ہیں مگر اب تک کسی میں یہ طاقت نہیں ہوئی کہ قرآن کریم کے اس دعویٰ کو رد کر سکے۔دوسری مثال حضرت مسیح موعود کی عربی کتب ہیں۔آپ نے بھی ان کے بے مثل ہونے کا دعوی کیا ہے اور چیلنج دیا ہے کہ کوئی ان کا جواب بنا سکتا ہے تو بنا کر دکھائے باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود بھی تھے اور آپ کے دشمن بڑے بڑے علماء عجم کے علاوہ علمائے عرب بھی تھے مگر سب لوگ آپ کی غلطیاں نکالنے کا دعویٰ تو کرتے رہے مگر آپ کی کتب کی مثل لانے کیلئے سامنے نہ آئے۔پچھلے دنوں یہاں پروفیسر مارگولیتھ صاحب آئے تھے وہ انگریزوں میں سے عربی کے بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ان سے میری منجزات پر گفتگو ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ کیا قرآن والا معجزہ اب بھی دکھایا جا سکتا ہے یہ عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے پکڑ کر ان کے منہ سے اس معجزہ کا مطالبہ کروایا جو حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر ظاہر ہو چکا تھا۔میں نے کہا ہاں اس زمانہ میں بھی دکھایا جاسکتا ہے بلکہ دکھایا گیا ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود کی کتاب الہدیٰ اس کے سامنے رکھدی اور کہا اس کی نظیر لانے والے کے لئے حضرت صاحب نے ہیں ہزار کا انعام رکھا ہے اور میں یہ اقر ارلکھ دیتا ہوں کہ جو اس کی مثل لے آئے گا اسے میں یہ انعام دے دوں گا اس پر وہ خاموش ہو گیا۔یہ چند مثالیں میں نے خدا کی صفات کی دی ہیں۔ان سے پتہ لگتا ہے کہ خدا کی ہر