حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 52 of 148

حقیقتِ نماز — Page 52

حقیقت نماز سوایسا ہی علمی تجارب کے ذریعہ سے ہر ایک عارف کو ماننا پڑا ہے کہ دعا کا قبولیت کے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ہم اس راز کو معقولی طور پر دوسروں کے دلوں میں بٹھا سکیں یا نہ بٹھا سکیں مگر کروڑ بار استبازوں کے تجارب نے اور خود ہمارے تجربہ نے اس مخفی حقیقت کو ہمیں دکھلا دیا ہے کہ ہمارا دعا کرنا ایک قوت مقناطیسی رکھتا ہے اور فضل اور رحمت الہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔نماز کا مغز اور روح بھی دعا ہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔جب ہم اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ ) کہتے ہیں تو اس دعا کے ذریعہ سے اس نور کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے اترتا اور دلوں کو یقین اور محبت سے منور کرتا ہے۔“ ایام الصلح - روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 241-240 مطبوعہ 2021ء)۔۔۔یہ سورۃ فاتحہ کا خلاصہ مطلب ہے جس کو پانچ وقت مسلمان نماز میں پڑھتے ہیں بلکہ در اصل اسی دعا کا نام نماز ہے اور جب تک انسان اس دعا کو درددل کے ساتھ خدا کے حضور میں کھڑے ہو کر نہ پڑھے اور اس سے وہ عقدہ کشائی نہ چاہے جس عقدہ کشائی کیلئے یہ دعا سکھلائی گئی ہے تب تک اُس نے نماز نہیں پڑھی۔“ اسم دعوت روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 419 مطبوعہ 2021ء) خدا تعالیٰ بڑا کریم ہے۔اس کی کریمی کا بڑا گہرا سمندر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا اور جس کو تلاش کرنے والا اور طلب کرنے والا کبھی محروم نہیں رہا۔اس لیے تم کو چاہئے کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعائیں مانگو اور اس کے فضل کو طلب کرو۔ہر ایک نماز میں دعا کے لیے کئی مواقع ہیں۔رکوع، قیام ، قعدہ ، سجدہ وغیرہ۔پھر آٹھ پہروں میں پانچ مرتبہ نماز پڑھی جاتی ہے۔فجر، ظہر، عصر، شام اور عشاء۔ان پر ترقی کر کے اشراق اور تہجد کی نمازیں ہیں۔یہ سب دعا ہی کے لیے مواقع ہیں۔52