حقیقتِ نماز — Page 115
حقیقت نماز گندے منصوبے بھسم نہ ہوں۔انانیت اور شیخی دُور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا۔عبودیت کا ملہ کے سکھانے کے لیے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔میں تمہں پھر بتلاتا ہوں کہ اگر خدائے تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کاربند ہو جاؤ اور ایسے کار بند نہ ہو کہ نہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نما ز ہو جائیں۔“ یدیوں کو دور کرنے کا ذریعہ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 32 مطبوعہ 2010ء) بعد اس کے سنو۔دوسرا امر نماز ہے جس کی پابندی کے لئے بار بار قرآن شریف میں کہا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یا درکھو کہ اسی قرآن مجید میں ان مصلیوں پر لعنت کی ہے جو نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اپنے بھائیوں سے بخل کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے محفوظ کر دے۔انسان درد اور فرقت میں پڑا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب اُسے حاصل ہو جس سے وہ اطمینان اور سکینت اسے ملے جو نجات کا نتیجہ ہے مگر یہ بات اپنی کسی چالا کی یا خوبی سے نہیں مل سکتی۔جب تک خدا نہ بلاوے یہ جا نہیں سکتا۔جب تک وہ پاک نہ کرے یہ پاک نہیں ہوسکتا۔(حاشیہ سے بحوالہ بدرجلد ۶ نمبر ۱۔۲ صفحہ ۱۲ - 115