حقیقتِ نماز — Page 109
حقیقت نماز فضائل و برکات نماز ذکر الہی اور تقرب الہی کا ذریعہ صل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے تو اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جتنی لمبی وہ منزل ہوگی اتنا ہی زیادہ تیزی کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہوگا۔سوخدا تعالیٰ تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بعد اور ڈوری بھی لمبی۔پس جو شخص خدا تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے۔جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اُسے دل کی تسکین آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔وہ زمانہ جس میں نمازیں سنوار کر پڑھی جاتی تھیں غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا۔ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پا کر دیا تھا۔جب سے اُسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں۔درد دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے۔ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس امر کوحل اور آسان کر دیا ہوا ہوتا ہے۔109