حقیقتِ نماز — Page 90
حقیقت نماز هُمْ لِآمَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ (٦) وَالَّذِيْنِ هُمْ عَلَى صَلَوتِهِمْ يُحَافِظُونَ اور ان کے مقابل جسمانی ترقیات کے مراتب بھی چھ قرار دیتے ہیں جیسا کہ وہ ان آیات کے بعد فرماتا ہے۔(۱) ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِيْن (٢) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَة (٣) فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَة (٤) فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عظما (۵) فَكَسَوْنَا الْعِظُمَ لَحْمًا (1) ثُمَّ انْشَأْنُهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ظاہر ہے کہ پہلا مرتبہ روحانی ترقی کا یہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ یعنی وہ مومن نجات پاگئے جو اپنی نماز اور یاد الہی میں خشوع اور فروتنی اختیار کرتے ہیں اور رقت اور گدازش سے ذکر الہی میں مشغول ہوتے ہیں۔اس کے مقابل پر پہلا مرتبہ جسمانی نشو ونما کا جو اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے یہ ہے یعنی تم جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينِ۔یعنی پھر ہم نے انسان کو نطفہ بنایا اور وہ نطفہ ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔سوخدا تعالیٰ نے آدم کی پیدائش کے بعد پہلا مرتبہ انسانی وجود کا جسمانی رنگ میں نطفہ کو قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نطفہ ایک ایسا تخم ہے جو اجمالی طور پر مجموعہ اُن تمام قومی اور صفات اور اعضاء اندرونی و بیرونی اور تمام نقش ونگار کا ہوتا ہے جو پانچویں درجہ پر مفصل طور پر ظاہر ہو جاتے ہیں اور چھٹے درجہ پر اتم اور اکمل طور پر اُن کا ظہور ہوتا ہے۔( حاشیہ : درجات سے مراد وہ درجے ہیں جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں۔پانچواں درجہ وہ ہے 90