حقیقتِ نماز — Page 86
حقیقت نماز صلوۃ اصل میں آگ میں پڑنے اور محبت الہی اور خوف الہی کی آگ میں پڑ کر اپنے آپ سے جل جانے اور ماسوی اللہ کو جلا دینے کا نام ہے اور اس حالت کا نام ہے کہ صرف خدا ہی خدا اُس کی نظر میں رہ جاوے اور انسان اس حالت تک ترقی کر جاوے کہ خدا کے بلانے سے بولے اور خدا کے چلانے سے چلے۔اس کی کل حرکات اور سکنات ، اس کا فعل اور ترک فعل سب اللہ ہی کی مرضی کے مطابق ہو جاوے۔خودی دور ہو جاوے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 590 مطبوعہ 2010ء) دیکھو یہ جو نما ز پڑھی جاتی ہے اس میں بھی ایک طرح کا اضطراب ہے۔کبھی کھڑا ہونا پڑتا ہے، کبھی رکوع کرنا پڑتا ہے اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا ہے اور پھر طرح طرح کی احتیاطیں کرنی پڑتی ہیں۔مطلب یہی ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے لئے دکھ اور مصیبت کو برداشت کرنا سیکھے ورنہ ایک جگہ بیٹھ کر بھی تو خدا تعالیٰ کی یاد ہوسکتی تھی پر خدا تعالیٰ نے ایسا منظور نہیں کیا۔صلوۃ کا لفظ ہی سوزش پر دلالت کرتا ہے۔جب تک انسان کے دل میں ایک قسم کا قلق اور اضطراب پیدا نہ ہو اور خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آرام کو نہ چھوڑے تب تک کچھ بھی نہیں۔ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ فطرتاً اس قسم کے ہوتے ہیں جو ان باتوں پر پورے نہیں اتر سکتے اور پیدائشی طور پر ہی اُن میں ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جو وہ ان امور میں استقلال نہیں دکھا سکتے مگر تا ہم بھی تو بہ اور استغفار بہت کرنا چاہئے کہ کہیں ہم اُن میں ہی شامل نہ ہو جاویں جو دین سے بالکل بے پرواہ ہوتے ہیں اور اپنا مقصود بالذات دنیا کو ہی سمجھتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 331 مطبوعہ 2010ء) 86