حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 33 of 148

حقیقتِ نماز — Page 33

حقیقت نماز سے گویا نماز شروع ہو جاتی ہے۔مثلاً ایک شخص پر غیر متوقع گورنمنٹ کی طرف سے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گیا کہ فلاں امر کے متعلق تم اپنا جواب دو۔یہ پہلا مرحلہ ہے جو مصیبت کا آغاز ہوا اور اس کے امن و سکون میں زوال شروع ہو گیا۔یہ وقت ظہر کی نماز سے مشابہ ہے۔( حاشیہ میں درج ہے : بدر میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے : حالت اول زوال سے شروع ہوتی ہے۔اس سے پہلے انسان اپنے آپ کو غنی سمجھتا ہے اور طاقتور جانتا ہے اور روز روشن کی طرح اُس کے تمام امور ایک جلوہ رکھتے ہیں اور اُن پر کوئی تاریکی نہیں ہوتی۔وہ اپنے آپ کو غیر محتاج کی طرح خیال کرتا ہے اور ایک پوری راحت اور آرام کی صورت میں اپنے آپ کو دیکھتا ہے۔اچانک اُس پر ایک وقت آتا ہے کہ وہ زوال کے ساتھ ایک مشابہت رکھتا ہے۔وہ ابتدائے مصیبت کا وقت ہوتا ہے اور دکھ ، درد اور محتاجی کا احساس شروع ہوتا ہے۔قبل ازیں اُس کو معلوم نہ تھا کہ مجھ پر ایسا وقت آنے والا ہے۔اچانک بیٹھے بیٹھے یہ حالت شروع ہو جاتی ہے جیسا کہ گھر میں آرام سے بیٹھے ہوئے اچانک کسی کے پاس گورنمنٹ کی طرف سے وارنٹ آتا ہے اور کسی مجرم پر جواب طلبی کی جاتی ہے۔یہ مصیبت کا پہلا مرحلہ ہے اور نماز ظہر کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔چونکہ انسان کی راحت اور جمعیت میں ایک زوال آگیا ہے۔) پھر بعد اس کے جب وہ عدالت میں حاضر ہوا اور بیانات ہونے کے بعد اُس پر فرد قرارداد جرم لگ گئی اور شہادت گزرگئی تو اس کی مصیبت اور کرب پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔یہ گویا عصر کا وقت ہے۔کیونکہ عصر کی نماز کا وہ وقت ہے جب سورج کی روشنی بہت ہی کم ہو جاوے۔یہ عصر کا وقت اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس کی عزت اور توقیر بہت 33