حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 32 of 148

حقیقتِ نماز — Page 32

حقیقت نماز ہوتا ہے یہ وہی حالت ڈلوک ہے اور یہ پہلی حالت ہے جو نما ز ظہر کے قائم مقام ہے اور اس کی عکسی حالت نماز ظہر ہے۔اب دوسری حالت اس پر وہ آتی ہے جبکہ وہ کمرہ عدالت میں کھڑا ہے۔فریق مخالف اور عدالت کی طرف سے سوالات جرح ہو رہے ہیں اور وہ ایک عجیب حالت ہوتی ہے۔یہ وہ حالت اور وقت ہے جو نماز عصر کا نمونہ ہے کیونکہ عصر گھوٹنے اور نچوڑنے کو کہتے ہیں۔جب حالت اور بھی نازک ہو جاتی ہے اور فرد قرار دادِ جرم لگ جاتی ہے تو پاس اور نا اُمیدی بڑھتی ہے کیونکہ اب خیال ہوتا ہے کہ سزا مل جاوے گی۔یہ وہ وقت ہے جو مغرب کی نماز کا عکس ہے۔پھر جب حکم سنایا گیا اور کہ کورٹ انسپکٹر کے حوالہ کیا گیا تو وہ روحانی طور پر نماز عشاء کی عکسی تصویر ہے۔یہانتک کہ نماز کی صبح صادق ظاہر ہوئی۔اور اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الانشراح ) کی حالت کا وقت آ گیا۔تو روحانی نماز فجر کا وقت آگیا اور فجر کی نماز اس کی عکسی تصویر ہے۔لنسٹیل یا 66 ( ملفوظات جلد اول صفحہ 95 مطبوعہ 2010ء ) نماز ایسی چیز ہے جو جامع حسنات ہے اور دافع سیات ہے۔میں نے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ نماز کے جو پانچ وقت مقرر کئے ہیں اس میں ایک حقیقت اور حکمت ہے۔نماز اس لئے ہے کہ جس عذاب شدید میں پڑنے والا مبتلا ہے وہ اس سے نجات پالیوے۔اوقات نماز کیلئے لکھا ہے کہ وہ زوال کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان غنی ہوتا ہے تو وہ طافی ہو جاتا ہے اور حدود اللہ سے نکل جاتا ہے لیکن جب اُس کو کوئی دکھ اور درد پہنچے تو پھر یہ فطرت دوسرے کی مدد چاہتا ہے اور اُس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔پس جب اُس پر ابتدائے مصیبت ہو تو اُسی وقت 32