حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 97 of 148

حقیقتِ نماز — Page 97

حقیقت نماز رونے کی عادت بہت ہوتی ہے اور بات بات میں ڈر جاتا اور خشوع اور انکسار اختیار کرتا ہے مگر با ایں ہمہ بچپن کے زمانہ میں طبعاً انسان بہت سے لغویات میں مبتلا ہوتا ہے اور سب سے پہلے لغو باتوں اور لغو کاموں کی طرف ہی رغبت کرتا ہے اور اکثر لغوحرکات اورلغوطور پر کودنا اور اچھلنا ہی اُس کو پسند آتا ہے جس میں بسا اوقات اپنے جسم کو بھی کوئی صدمہ پہنچا دیتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ انسان کی زندگی کی راہ میں فطرتاً پہلے لغویات ہی آتے ہیں اور بغیر اس مرتبہ کے طے کرنے کے دوسرے مرتبہ تک وہ پہنچ ہی نہیں سکتا۔پس طبعاً پہلا زینہ بلوغ کا بچپن کے لغویات سے پر ہیز کرنا ہے۔سو اس سے ثابت ہے کہ سب سے پہلا تعلق انسانی سرشت کولغویات سے ہی ہوتا ہے۔)۔۔۔یعنی کسی شخص میں نما ز اور یاد الہی کی حالت میں خشوع اور سوز و گداز اور گریہ وزاری پیدا ہونالازمی طور پر اس بات کو مستلزم نہیں کہ اس شخص کو خدا سے تعلق بھی ہے۔ممکن ہے کہ یہ سب حالات کسی شخص میں موجود ہوں مگر ابھی اُس کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہ ہو۔جیسا کہ مشاہدہ صریحہ اس بات پر گواہ ہے کہ بہت سے لوگ پند و نصیحت کی مجلسوں اور وعظ و تذکیر کی محفلوں یا نماز اور یاد الہی کی حالت میں خوب روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اور سوز و گداز ظاہر کرتے ہیں اور آنسو اُن کے رخساروں پر پانی کی طرح رواں ہو جاتے ہیں بلکہ بعض کا رونا تو منہ پر رکھا ہوا ہوتا ہے۔ایک بات سنی اور وہیں رو دیا۔مگر تا ہم لغویات سے وہ کنارہ کش نہیں ہوتے اور بہت سے لغو کام اور لغو باتیں اور لغوسیر و تماشے اُن کے گلے کا ہار ہو جاتے ہیں۔جن سے سمجھا جاتا ہے کہ کچھ بھی اُن کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں اور نہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت کچھ اُن کے دلوں میں ہے۔پس یہ عجیب تماشا ہے کہ ایسے گندے نفسوں کے ساتھ بھی خشوع اور 97