حقیقتِ نماز — Page 96
حقیقت نماز اُن کے لئے شیر مادر ہوتے ہیں۔چونکہ وہ ایسی حالت رکھتے ہیں کہ رحیم خدا سے اور اُس کے تعلق سے کچھ مناسبت نہیں رکھتے بلکہ رحیم خدا کے نزدیک وہ تمام حالتیں مکروہ ہیں اس لئے وہ باوجود اپنے طور کے وجد اور رقص اور اشعار خوانی اور سرود وغیرہ کے رحیم خدا کے تعلق سے سخت بے نصیب ہوتے ہیں اور اُس نطفہ کی طرح ہوتے ہیں جو آتشک کی بیماری یا جذام کے عارضہ سے جل جائے اور اس قابل نہ رہے کہ رحم اس سے تعلق پکڑ سکے۔پس رحم اور رحیم کا تعلق یا عدم تعلق ایک ہی بنا پر ہے۔صرف روحانی اور جسمانی عوارض کا فرق ہے۔اور جیسا کہ نطفہ بعض اپنے ذاتی عوارض کی رُو سے اس لائق نہیں رہتا کہ رحم اس سے تعلق پکڑ سکے اور اُس کو اپنی طرف کھینچ سکے ایسا ہی حالت خشوع جو نطفہ کے درجہ پر ہے بعض اپنے عوارض ذاتیہ کی وجہ سے جیسے تکبر اور عجب اور ریا یا اور کسی قسم کی ضلالت کی وجہ سے یا شرک سے اس لائق نہیں رہتی کہ رحیم خدا اُس سے تعلق پکڑ سکے۔پس نطفہ کی طرح تمام فضیلت روحانی وجود کے اول مرتبہ کی جو حالت خشوع ہے رحیم خدا کے ساتھ حقیقی تعلق پیدا کرنے سے وابستہ ہے جیسا کہ تمام فضیلت نطفہ کی رحم کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے وابستہ ہے۔پس اگر اس حالت خشوع کو اُس رحیم خدا کے ساتھ حقیقی تعلق نہیں اور نہ حقیقی تعلق پیدا ہوسکتا ہے تو وہ حالت اُس گندے نطفہ کی طرح ہے جس کو رحم کے ساتھ حقیقی تعلق پیدا نہیں ہوسکتا۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ نماز اور یاد الہی میں جو کبھی انسان کو حالتِ خشوع میٹر آتی ہے اور وجد اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے یا لذت محسوس ہوتی ہے یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس انسان کو رحیم خدا سے حقیقی تعلق ہے۔۔۔( حاشیہ : ابتدائی حالت میں خشوع اور رقت کے ساتھ ہر طرح کے لغو کام جمع ہو سکتے ہیں۔جیسا کہ بچہ میں 96