حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 89 of 148

حقیقتِ نماز — Page 89

حقیقت نماز حالت خشوع اور سوز و گداز کی فلاسفی تفصیل اس کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اِس سورۃ کے ابتداء میں جو سورۃ المؤمنون ہے۔۔۔اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ کیونکر انسان مراتب ستہ کو طے کر کے جو اُس کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں اپنے کمال روحانی اور جسمانی کو یہ چاہتا ہے۔سوخدا نے دونوں قسم کی ترقیات کو چھ چھ مرتبہ پر تقسیم کیا ہے اور مرتبہ ششم کو کمال ترقی کا مرتبہ قرار دیا ہے اور یہ مطابقت روحانی اور جسمانی وجود کی ترقیات کی ایسے خارقِ عادت طور پر دکھلائی ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے کبھی کسی انسان کے ذہن نے اس تکیہ معرفت کی طرف سبقت نہیں کی۔اور اگر کوئی دعویٰ کرے کہ سبقت کی ہے تو بار ثبوت اُس کی گردن پر ہوگا کہ یہ پاک فلاسفی کسی انسان کی کتاب میں سے دکھلاوے اور یہ یادر ہے کہ وہ ایسا ہرگز ثابت نہیں کر سکے گا۔پس بدیہی طور پر یہ معجزہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وہ عمیق مناسبت جو روحانی اور جسمانی وجود کی اُن ترقیات میں ہے جو وجو د کامل کے مرتبہ تک پیش آتی ہیں ان آیات مبارکہ میں ظاہر کر دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ظاہری اور باطنی صنعت ایک ہی ہاتھ سے ظہور پذیر ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔۔۔اب ہم روحانی مراتب سنتہ کا ذیل میں ذکر کرتے ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(۱) قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمُ خَاشِعُوْنَ (٢) وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ الْغَوِ مُعْرِضُونَ (۳) وَالَّذِينَ هُمْ للزكوة فَاعِلُونَ (٢) وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ۔۔۔(٥) وَالَّذِيْنَ 89