حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 85 of 148

حقیقتِ نماز — Page 85

حقیقی نماز کا مغز اور روح حضور قلب، حظ اور سُرور کی کیفیت މމ حقیقت نماز صلی جلنے کو کہتے ہیں۔جیسے کباب بھونا جاتا ہے۔اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔جب تک دل بریاں نہ ہو نماز میں لذت اور سرور پیدا نہیں ہوتا۔اور اصل تو یہ ہے کہ نماز ہی اپنے سچے معنوں میں اُسی وقت ہوتی ہے۔نماز میں شرط ہے کہ وہ جمیع شرائط ادا ہو۔جب تک وہ ادا نہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلوۃ میں میل نماز کی ہے حاصل ہوتی ہے۔“ (ملفوظات جلداول صفحہ 287 مطبوعہ2010ء) 66 نماز وہ ہے جس میں دعا کا مزہ آجاوے۔خدا تعالیٰ کے حضور میں ایسی توجہ سے کھڑے ہو جاؤ کہ رقت طاری ہو جائے۔جیسے کہ کوئی شخص کسی خوفناک مقدمہ میں گرفتار ہوتا ہے اور اس کے واسطے قید یا پھانسی کا فتویٰ لگنے والا ہوتا ہے۔اس کی حالت حاکم کے سامنے کیا ہوتی ہے۔ایسے ہی خوفزدہ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔۔۔نماز وہی اصلی ہے جس میں مزا آ جاوے۔ایسی ہی نماز کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔نماز مومن کے واسطے ترقی کا ذریعہ ہے۔اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّيَاتِ (ھود ۱۱۵) نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔" (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 45 مطبوعہ 2010ء) 85